قطعیت یا ایسرٹیونیس(Assertiveness) یا قطعیت کی اس صلاحیت کے ساتھ
آدمی اپنی سوچ اور رائے کی بنا پر آنے والے اپنے جذبات کا اظہار غیر تخریبی اور
متوازن طریقے سے کرتا ہے۔ لغوی اعتبار سے ایسرٹیونیس کا ترجمہ قطعی اور حتمی کا
نکلتا ہے، لیکن ابلاغ کے ضمن میں جب یہ اصطلاح آتی ہے تو اس سے مراد ایک انسان کے
اندر اپنی بات کہنے کی وہ مثالی صلاحیت ہے کہ جس کے ذریعے وہ اپنی بات یا رائے کو
موثر، مدلل اور متوازن انداز میں پیش کرسکے کہ دوسرے لوگ اس سے اختلافِ رائے رکھنے
کے باوجود اس کی بات کو سنیں اور غور کریں۔
ایسا فرد اپنے اختلاف کو موثر انداز میں اس طرح پیش کرنے کے قابل ہوتا ہے کہ دوسروں کو بداخلاقی یا بدتمیزی بھی محسوس نہ ہو اور بات میں وزن بھی ہو۔ ایسرٹیونیس کی صلاحیت موجودہ جارحانہ معاشرے میں بہت کم ہوتی جارہی ہے اور المیہ یہ ہے کہ لوگ جارحانہ رویے کو حق گوئی سے تعبیر کرنے لگے ہیں، حالانکہ حق گوئی ایک مثبت خصوصیت ہے جبکہ جارحانہ پن ایک منفی انداز۔
ایسا فرد اپنے اختلاف کو موثر انداز میں اس طرح پیش کرنے کے قابل ہوتا ہے کہ دوسروں کو بداخلاقی یا بدتمیزی بھی محسوس نہ ہو اور بات میں وزن بھی ہو۔ ایسرٹیونیس کی صلاحیت موجودہ جارحانہ معاشرے میں بہت کم ہوتی جارہی ہے اور المیہ یہ ہے کہ لوگ جارحانہ رویے کو حق گوئی سے تعبیر کرنے لگے ہیں، حالانکہ حق گوئی ایک مثبت خصوصیت ہے جبکہ جارحانہ پن ایک منفی انداز۔
ایسرٹیونیس تین بنیادی اجزا پر مشتمل ہے: (الف) اپنے احساسات کا اظہار کرنے کی
قابلیت؛ (ب) کھلے دل سے اپنے یقین اور خیالات کے اظہار کی قابلیت؛ (ج) اپنے حقوق
کے لیے درست اور مناسب انداز سے کھڑے ہونے یا آواز اٹھانے کی قابلیت۔
یہ
افراد آپے سے باہر ہوتے ہیں اور نہ بات کرتے ہوئے جھجکتے ہیں۔ یہ لوگ بداخلاق یا بدتہذیبی
کے دائرے میں داخل ہوئے بغیر، کھلے طور پر اپنی بات کہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
لائف کوچ کی حیثیت سے میرا مشاہدہ رہا ہے کہ یہ صلاحیت اکثر لوگوں میں نہیں ہے اور
ان میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز افراد بھی شامل ہیں۔ بلکہ بڑے عہدے کے زعم میں اکثر
لوگ جارحانہ رویہ اختیار کرنے لگتے ہیں۔ یہ چیز کسی بھی فرد کی مزید ترقی اور ہر
دل عزیزی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔پھر، کچھ تو جارحانہ رویے کی بنا پر اور کچھ جذباتی
جہالت کی وجہ سے ان لوگوں میں اسٹریس اور اضمحلال پیدا ہوتا ہے جس کے باعث ہائی
بلڈ پریشر، ہائی بلڈ شوگر اور حملۂ قلب جیسے عوارض لاحق ہوتے ہیں۔

No comments:
Post a Comment