Wednesday, 4 July 2012

آئی کیو اور ای کیو


یہ سوال انسانی ذہن کو ہمیشہ سے بے چین کیے رکھتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے جو انسان کو آگے بڑھاتی اور اسے مسائل حل کرنے کے قابل بناتی ہے؟ دوسری جنگ عظیم سے پہلے تک اس سوال کا جواب بڑی حد تک ‘‘آئی کیو’’ (IQ یا  Intelligence Quotient) کی صورت میں دیا جاتا تھا۔
 اس نظریے کی بنا پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ اپنی تعلیمی مہارتوں پر عبور رکھتا ہو، جتنا زیادہ تعلیم یافتہ ہو، چیزوں پر زیادہ سے زیادہ توجہ کرنے والا ہو، اتنا ہی وہ کامیاب ہوگا۔ انھی خوبیوں سے متصف انسان کو ذہین (Intelligent) کہا جاتا تھا۔ 
لیکن تجربات و مشاہدات نے ثابت کیا کہ آئی کیو کی بنیاد پر ذہانت کا نظریہ حقیقی دنیا میں درست ثابت نہیں ہوپارہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر واقعی ایسا ہے تو کیوں اعلا تعلیم حاصل کرنے والے، نمایاں گریڈ اسکور کرنے والے اور اپنی توجہ کو چیزوں پر مرکوز کرنے والے عموماً ذہنی، جسمانی اور جذباتی مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ اس کے برخلاف جن لوگوں کو عرفِ عام میں جاہل، نالائق، پھوہڑ، بے تکا کہا جاتا ہے، کیوں بڑے بڑے کارنامے انجام دے لیتے ہیں۔ عام طور پر کیوں موجد، مصور، اور تخلیق کار وہ لوگ ہوتے ہیں جو آئی کیو لیول پر پورے نہیں اترتے۔ آئی کیو کم اسکور کرنے والے افراد کیوں سماجی اور معاشی برتری حاصل کرلیتے ہیں۔
ای کیو کیا ہے؟ ان سوالات کا جواب ‘‘ای کیو’’ (EQ) ہے۔ ای کیو مخفف ہے، Emotional Quotient کا۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، ای کیو کا بہ راہِ راست تعلق انسانی جذبات یعنی Emotions سے ہے۔ ای کیو کے متبادل Emotional Intelligence کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے جسے اردو میں ‘‘جذباتی ذہانت’’ کا نام دیا جاتا ہے۔ EQ اور EI کی اصطلاحات کو شہرت سب سے پہلے معروف امریکی ماہر نفسیات ڈینیل گولمین کی کتاب منظر عام پر آنے کے بعد ملی۔ اس نے 1995ء میں اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ‘‘ایموشنل انٹیلی جنس’’ میں ان اصطلاحات کا استعمال کیا تھا۔ جذباتی ذہانت کے بارے میں ڈینیل گولمین لکھتا ہے:
Emotional Intelligence is the innate potential to feel, use, communicate, recognize, remember, descirbe idetify, learn from.
’’جذباتی ذہانت اپنے جذبات کو محسوس کرنے، استعمال کرنے، ابلاغ کرنے، تسلیم کرنے، یاد کرنے، بیان کرنے، شناخت کرنے، منظم کرنے، سمجھنے واضح کرنے اور ان سے سیکھنے کی قدرتی صلاحیت ہے۔‘‘
جذباتی ذہانت کو سادہ الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے: ‘‘یہ جاننا کہ کیا اچھا محسوس ہوتا ہے، کیا برا محسوس ہوتا ہے، اور کیسے برے سے اچھا حاصل کیا جاسکتا ہے۔’’

ای کیو کی مقبولیت کا سبب: ای کیو کے نظریے نے پوری دنیا میں تیزی کے ساتھ مقبولیت حاصل کی۔ اس کی خاص وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہ نظریہ انسانی جذبات، دماغی کیمیا، خوشی، اچھی صحت اور زندگی میں کامیابی کے تعلق کو بہ راہِ راست طور پر واضح کرتا ہے۔ نیز، اس ضمن میں نئی سے نئی تحقیقات بھی جذباتی ذہانت کے اس نظریے کو تقویت پہنچا رہی ہیں۔ دنیا بھر میں اس پر جو تجربات ہو رہے ہیں، ان کے حوصلہ افزا اور واضح مفید نتائج سامنے آرہے ہیں۔

No comments: