Saturday, 7 July 2012

جذباتی سپاٹ پن


گیری ایک اعلا تعلیم یافتہ، بہت ہی عقل مند اور سوچ بچار کرنے والا فرد اور کامیاب سرجن تھا، لیکن جذباتی سطح پر بالکل ہی سپاٹ۔ گویا اس کے اندر جذبات و احساسات کا کوئی اتار چڑھاؤ ہوتا ہی نہیں ہے۔ وہ کسی بھی صورتِ حال میں کوئی بھی جذباتی ردِعمل (Response) ظاہر نہیں کرتا تھا۔ وہ سائنس اور آرٹس دونوں ہی موضوعات پر زبردست طور پر بول سکتا تھا، لیکن جب معاملہ جذبات کا آتا تو وہ خاموش ہوجاتا۔
 ایلن اس کی اس خامی کو جانچ رہی تھی اور جب اس کے اصرار پر گیری اپنے نفسیاتی معالج کے پاس گیا تو اس نے معالج کو بتایا، ‘‘میں اپنے احساسات کا فطری انداز میں اظہار نہیں کرپاتا۔ مجھے یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ کیا بولنا ہے؛ میرے اندر کوئی واضح احساس نہیں ہوتا،مثبت نہ منفی۔’’
گیری کی اس غیر جذباتی کیفیت سے صرف ایلن ہی متاثر نہ تھی، بلکہ اس کے معالج نے جانا کہ وہ اپنی زندگی میں کسی سے بھی کھل کر اپنے جذبات کا اظہار نہ کرسکتا تھا۔ وجہ؟ وہ ابتدا میں یہ جان ہی نہ پایا کہ اس نے کیا محسوس کیا۔ چنانچہ اس نے یہ بتایا کہ وہ نہ غصے میں ہے، نہ غمگین ہے اور نہ خوش ہے۔
اس کے معالج کو یہ پتا چلا کہ گیری کی جذباتی تاریکی اس کی زندگی کو بھی اندھیرے میں ڈال چکی ہے۔ وہ ہر ایک کو بیزار (بور) کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی بیوی بھی اس کا علاج کرانا چاہتی تھی ۔ یہ واقعہ ڈینیل گولمین نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب میں لکھا ہے۔
جذباتی سپاٹ پن: گیری کا جذباتی سپاٹ پن نفسیات کی اصطلاح میں Alexithymia کہلاتا ہے۔ یہ ایک یونانی لفظ ہے جس کا مطلب ہے، جذبات کے اظہار کے لیے الفاظ کی کمی۔ ایسے لوگ اپنے احساسات کے اظہار کے لیے الفاظ کا درست انتخاب کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اگرچہ بہ ظاہر،یہ لوگ جذبات سے عاری دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ لوگ جذبات سے عاری نہیں ہوتے بلکہ جذبات کے اظہار کی مہارت سے عاری ہوتے ہیں۔
ایلیکسی تھیمیا کا علم اُس وقت ہوا جب کئی نفسیاتی مریضوں کا علاج معروف نفسیاتی طریق علاج ‘‘نفسی تجزیے’’ (سائکواینالیسس) کے ذریعے نہ ہوسکا تو اس کے اسباب جاننے کی تحقیق شروع ہوئی۔ عموماً اس مسئلے سے دوچار افراد کی جذباتی زندگی نہیں ہوتی۔ وہ نہ اپنی جذباتی کیفیت کا شعور رکھتے ہیں، اور نہ اپنے جذبات و احساسات کے اظہار کے لیے ان کے پاس الفاظ ہوتے ہیں۔ 2006ء سے میرے مشاہدہ و مطالعہ کا خاص موضوع جذبات و احساسات ہیں۔ اب تک میں یہ سوال کہ ‘‘میں اس وقت کیا محسوس کر رہا ہوں’’ (What is may NOW feeling) بارہ سو سے پندرہ سو افراد سے کرچکا ہوں۔ یہ سوال کرنے کے بعد میں ان سے یہ بھی استفسار کرتا ہوں کہ کیا انھوں نے اس سے قبل یہ سوال اپنے آپ سے کبھی کیا؟ صرف آٹھ دس افراد نے ہامی بھری۔

No comments: