بارہ سالہ نوجوان نے جو ایک انگلش میڈیم
سسٹم کے ہوسٹل میں رہتا تھا، ایک خط اپنے والدین کے نام لکھا اور خودکشی کرلی۔
میڈیا کے ذریعے جس کسی نے اس واقعے کو جانا، روح کانپ کر رہ گئی۔ خودکشی کا یہ
واقعہ پہلا نہیں ہے، ایسے سیکڑوں واقعات چند برس میں رونما ہوچکے ہیں۔ ایک جانب
لوگ خودکشی کے ذریعے خود کوقتل کر رہے ہیں تو دوسری جانب کوئی اپنی اولاد کو ذبح
کر رہا ہے تو کوئی اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو ہلاک کر رہا ہے۔ بعض حد میں
رہتے ہیں تو نشہ آور دواؤں کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق،
گزشتہ صرف ایک سال میں پاکستان میں خود کشی کا تناسب دوگنا ہوچکا ہے؛
ورلڈ بینک کے مطابق، ہر سال سات سے آٹھ ہزار افراد پاکستان میں خود
کشی کررہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اسٹریس اور ڈپریشن ہے۔ چنانچہ گزشتہ چند ماہ
میں ملک میں سکون آور دواؤں کی کھپت میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے۔
میڈیا صرف ان خبروں کو آپ تک پہنچاتا ہے، اور اپنے ناظرین کی شرح (Viewership) بڑھانے
کے لیے ایسی چیزوں کو ہوا دیتا ہے۔ آپ بھی ایسی خبروں کو سنتے، دیکھتے اور مرچ
مصالحہ لگا کر آگے بڑھاتے ہیں۔ لیکن...
میرا یہ سوال ہے کہ یہ سب کیا ہے؟ کیا یہ سب کچھ یوں ہی ہو رہا ہے؟
قدرت کے کارخانے میں کچھ بھی الل ٹپ نہیں ہوتا۔ یہاں ہر شے اور ہر واقعے کا کوئی
نہ کوئی سبب ہوتا ہے۔ کیا اس کا کوئی سبب ہے؟ اگر کوئی سبب ہے تو کیا؟ کیا آپ نے
کبھی اپنے آپ سے سوال کیا، ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
درج بالا واقعات ایک خاص قسم کے رویے یا برتاؤ (Behavior) کی
نمائندگی کر رہے ہیں۔ میں 2007 ء سے ‘‘برتاؤ’’ کی تربیت (ٹریننگ) دے رہا ہوں۔ میں
نے اسی سوال پر اپنے تئیں غور کیا تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ دراصل ہمیں اس
برتاؤ پر کام کرنے کی ضرورت ہے جو اِن تمام تر مسائل کا پیش خیمہ ہے۔ کئی لوگ اس
بات سے اختلاف کریں گے۔ کچھ کہہ سکتے ہیں، ‘‘مہنگائی’’ کو دور کرنے کی ضرورت
ہے۔‘‘کچھ کا خیال ہوگا،’’والدین کو اپنی اولاد پر ظلم نہیں کرنا چاہیے، انھیں
اولاد سے دوستوں کا سا معاملہ رکھنا چاہیے۔‘‘کچھ کہیں گے،’’حکومتی ڈھانچا اور
سیاسی نظام ان تمام مسائل کی جڑ ہے۔‘‘بعض کا کہنا ہوگا،‘‘اس تعلیمی نظام میں اصلاح
اور تبدیلی درکار ہے۔’’ اور پاکستانیوں کی اکثریت تو اس خوش فہمی میں مبتلا ہے ہی
کہ ملک میں شفاف سیاسی انقلاب سے ان مسائل اور الجھنوں کا مداوا ممکن ہے۔
یہ سب مشورے جزوی طور پر موثر ہیں، لیکن اگر ہم ان تمام مشوروں کا
جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ یہ مسئلے کو جڑ سے حل نہیں کرسکتے۔ بات مہنگائی کی
کریں تو کیا مہنگائی صرف انھیں کے لیے تھی جنھوں نے خود کشی کی یا خودکشی کی کوشش
کی۔ مہنگائی، درحقیقت ایک اضافی (Relative) اصطلاح ہے، جو ہر دور میں ہر
ایک کے لیے مختلف انداز سے جاری رہی ہے۔ بات مسائل کی ہو تو اس دُنیا کی تخلیق کے
بعد سے لے کر آج تک کیا کوئی دن کسی آدم پر ایسا گزرا ہے کہ جب اسے کسی مسئلے کا
سامنا نہ کرنا پڑا ہو؟ کیا جو والدین اپنے بچوں سے دوستانہ ماحول رکھتے ہیں، ان کے
ہاں لڑائی دنگا فساد نہیں ہوتا؟ جمہوری حکومت نے آج عوام کو یہ دن دکھلادیے تو کیا
آمرانہ حکومت میں عوام کو سکھ ملا ہے؟ کیا تعلیم نے کسی کے اَخلاق اور برتاؤ کو
سنوارا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو بڑے بڑے افسر بڑی بڑی رشوتیں کیوں لیتے؟ ڈاکٹر گردے
کیوں بیچتے؟ بزنس مین منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کیوں کرتے؟
خاصے غور و خوص کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ہمارے مسائل کا پیش
خیمہ ہمارے رویہ یا برتاؤ ہے۔ برتاؤ یا رویہ دراصل وہ ردِّعمل ہے جو ایک انسان کسی
واقعے (تجربہ، مسئلہ، مشاہدہ) کے نتیجے میں ظاہر کرتا ہے۔ تاہم یہ برتاؤ ہی سب کچھ
نہیں ہوتا۔ اس کی اول و آخر میں بھی بہت کچھ ہے۔ چنانچہ جب ہم برتاؤ کا تفصیلی
مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں برتاؤ کے تحقیق کاروں کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی
فرد کا برتاؤ جو سامنے والے فرد پر ظاہر ہوتا ہے، پورا ایک طریقہ عمل (پروسیس)
رکھتا ہے۔ اس پروسیس کے دوران میں کچھ عوامل کارفرما ہوتے ہیں جن کے نتیجے میں کسی
فرد کا برتاؤ ظاہرہوتا ہے۔
دو دوست ایک ہی ادارے سے ساٹھ برس کی عمر میں ریٹائر ہوئے۔ ایک دوست
نے سوچا، ’’آہ، اب تو اس ادارے کے لیے بھی میں بے کار ہوگیا ہوں جس کی ساری زندگی
میں نے خدمت کی۔‘‘ دوسرے نے سوچا، ’’واہ، زندگی اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا مزہ
تو اب آئے گا۔‘‘ پہلا دوست ریٹائرمنٹ کے تین برس کے اندر اندر مرگیا۔ دوسرا ماؤنٹ
ایورسٹ چڑھ گیا۔
یہ ہمارے واقعات (تجربات) نہیں ہوتے کہ جو ہماری زندگی کا تعین کریں،
یہ ان واقعات پر ہمارا ردعمل (برتاؤ) ہوتا ہے کہ جو ہماری زندگی کے آنے والے حالات
کا تعین کرتا ہے۔
گویا خوشی، ترقی اور کامیابی کا نقطۂ آغاز ’’آپ‘‘ ہیں۔ چنانچہ اس
’’آپ‘‘ کو سدھارنے، سنوارنے اور اسے بہتر بنانے کی مہارت کو ’’سیلف سائنس‘‘ (Self Science) کا
نام دیا گیا۔ اپنے ’’آپ‘‘ کی یہ اصطلاح سب سے پہلے ایک انگریز مصنف نے اپنی کتاب
میں استعمال کی ہے۔ اس کے بعد ڈینیل گولمین نے اپنی معرکہ آرا کتابEmotional Intelligence: Why it can matter more than IQ میں اس کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے لکھی ہے کہ سیلف سائنس کورس کی
ٹریننگ کے تحت درج ذیل پانچ صلاحیتیں آج معاشرے کے افراد میں پیدا کرنے کی ضرورت
ہے:
1) اپنے جذبات کو جاننا
2) جذبات کو قابو کرنا
3) تحریک دینا
4) دوسروں میں جذبات جانچنا
5) تعلقات برتنا
2) جذبات کو قابو کرنا
3) تحریک دینا
4) دوسروں میں جذبات جانچنا
5) تعلقات برتنا
البتہ اب ماہرین پہلی چار خوبیوں کو اصل قرار دیتے ہیں۔ پانچویں خوبی
تو چار صلاحیتیں اپنے اندر پیدا کرنے کے بعد خود آتی ہے۔ اس لیے ہم پہلی چار پر
زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں، اور انھی کے حوالے سے گفتگو کو آگے بڑھائیں گے۔
جذباتی کیفیت: برتاؤ یا رویے کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ اس کی اصل (بنیاد) ہماری جذباتی کیفیت (Emotional State) ہوتی ہے۔ چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ اس تحریر کی ابتدا میں درج کیے گئے واقعات لوگوں کی خودکشی یا بے کسی کا سبب نہیں ہیں، اصل سبب ان مسائل پر ان افراد کا وہ ردّعمل یا برتاؤ ہے جس نے انھیں اس انجام تک پہنچایا۔
جذباتی کیفیت: برتاؤ یا رویے کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ اس کی اصل (بنیاد) ہماری جذباتی کیفیت (Emotional State) ہوتی ہے۔ چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ اس تحریر کی ابتدا میں درج کیے گئے واقعات لوگوں کی خودکشی یا بے کسی کا سبب نہیں ہیں، اصل سبب ان مسائل پر ان افراد کا وہ ردّعمل یا برتاؤ ہے جس نے انھیں اس انجام تک پہنچایا۔
برتاؤ پر کنٹرول کیسے: برتاؤ پر کنٹرول مشکل
ہے، نہیں، بہت آسان ہے... جب اس کے میکانزم کو سمجھ لیا جائے۔
پوری دنیا میں خاص کر دوسری جنگ عظیم کے بعد جب یہ حقیقت کا شکار ہوئی کہ ہماری زندگی کا تعین ہمارا برتاؤ کرتا ہے، تب سے دنیا بھر کے سائنس داں اور تحقیق کار یہ کوشش کرنے لگے کہ کیوں کر آسان سے آسان طریقے اپنے برتاؤ کو کنٹرول کرنے کے وضع کیے جائیں، اور آج لگ بھگ ساٹھ عشروں کی تحقیق اور مطالعے کے بعد یہ علم بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ چنانچہ آئی کیو (IQ) کا نظریہ دم توڑ چکا ہے اور ای کیو (EQ) کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
پوری دنیا میں خاص کر دوسری جنگ عظیم کے بعد جب یہ حقیقت کا شکار ہوئی کہ ہماری زندگی کا تعین ہمارا برتاؤ کرتا ہے، تب سے دنیا بھر کے سائنس داں اور تحقیق کار یہ کوشش کرنے لگے کہ کیوں کر آسان سے آسان طریقے اپنے برتاؤ کو کنٹرول کرنے کے وضع کیے جائیں، اور آج لگ بھگ ساٹھ عشروں کی تحقیق اور مطالعے کے بعد یہ علم بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ چنانچہ آئی کیو (IQ) کا نظریہ دم توڑ چکا ہے اور ای کیو (EQ) کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
ای کیو: دنیا بھرمیں ای
کیو کے ذریعے مختلف حالات و واقعات کے دوران میں اپنے برتاؤ کو کنٹرول کرنے کی
تربیت دی جارہی ہے۔ ابتدا میں صرف پروفیشنلز کو یہ تربیت فراہم کی جاتی تھی، لیکن
اب اسکولوں کی سطح پر بھی ای کیو کی تربیت فراہم کی جارہی ہے۔
کامیابی ڈائجسٹ کے آغاز یعنی 2005ء سے لے کر 2012ء تک میں نے ہمیشہ
ایسی نئی نئی چیزوں پر غور کیا ہے کہ جن سے معاشرے کے مختلف طبقوں میں تبدیلی کا
شعور پیدا کیا جائے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے رہ نمائی فراہم کی جائے۔ اب جس
قسم کے شدید ترین حالات نے پاکستان کے تقریباً ہر مرد و خاتون کو شدید ذہنی دباؤ
میں مبتلا کردیا ہے، میں نے ایک بار پھر یہ غور کرنا شروع کیا کہ اس کا حل کیا ہے۔
چنانچہ Happy
Pakistan Project کے نام سے اپریل 2012ء سے ایک نئے پروجیکٹ
کا آغاز کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت پاکستان بھر کے 15 سے 64 برس کے تمام خواتین و
حضرات کو (جو کل پاکستانی آبادی کا 60.3% بنتا ہے) یہ کورس کرانے کا بیڑا اٹھایا
ہے۔ ہیپی پاکستان پروجیکٹ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگوں میں EQ کا شعور اور صلاحیت
پیدا کی جائے تاکہ وہ کسی بھی قسم کے حالات میں مسائل یا دباؤ کا سامنا کرنے اور
مثبت ردِعمل (برتاؤ) ظاہر کرنے کے قابل ہوسکیں۔ یہ تحریر بھی اسی مقصد کے تحت لکھی
گئی تاکہ قارئین میں بھی یہ صلاحیت پیدا ہو۔ اس سلسلے میں آپ کے تعاون کا انتظار
ہے۔

No comments:
Post a Comment