Wednesday, 11 July 2012

جذباتی ذہانت اور جذبات کا شعور


جذباتی ذہانت بڑھانے اور اپنی جذباتی کیفیت کو کنٹرول کرنے کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے اور دوسروں کے جذبات سے آگاہ اور واقف ہوں۔ جذباتی ذہانت کے شعبے میں اسے ‘‘جذباتی خواندگی’’ (Emotional Literacy) کا نام دیا جاتا ہے۔ جذباتی شعور یا جذباتی خواندگی اپنے اندر پیدا کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم ٹھیک ٹھیک اپنے احساسات کی شناخت کرسکیں اور اپنے احساسات کا ابلاغ کرسکیں۔
آغاز:  ہم سب انسان کی حیثیت سے کسی نہ کسی جذبے یا احساس میں ہر وقت رہتے ہیں۔ یہ احساس یا جذبہ مثبت بھی ہوتا ہے اور منفی بھی۔ 
جذباتی خواندگی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے ابتدا میں ضروری ہے کہ ہم اپنے جذبات کے بارے میں سادہ اور چھوٹے چھوٹے جملے بولنے شروع کریں۔ مثال کے طور پر:
میں غم گین ہوں میں خوش ہوں
میں بیزار ہوں میں دلچسپی محسوس کر رہا ہوں
میں خوف محسوس کر رہا ہوں مجھے تحفظ کا احساس ہے
مجھے ڈر لگ رہا ہے مجھے خوداعتمادی کا احساس ہے
جذباتی ذہانت کو بڑھانے کے لیے یہ سادہ جملے بڑے کارگر ہیں، لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ یہ سادہ جملے بولنا بھی اکثر کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔ دراصل اس طرح انھیں اپنے حقیقی جذبات کا اظہار مشکل محسوس ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بچپن سے بڑی عمر تک سماجی اور خاندانی نمو کچھ اس طرز پر کی جاتی ہے کہ ہم اپنے احساسات و جذبات کو بہت سی چیزوں اور مثالوں سے گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ ہمیں بچپن سے لے کر آج تک ملکوں کے نام، جانوروں کے نام، دوست احباب، رشتے داروں کے نام، پہاڑی اور دریاؤں کے نام لباس کے نام، مفکرین و ماہرین کے نام، کتابوں کے نام بلاواسطہ (ڈائرکٹ) بتاتے اور سمجھائے جاتے ہیں لیکن ہمیں احساسات و جذبات کے نام بلاواسطہ نہیں بتائے جاتے اور نہ سمجھائے جاتے ہیں۔

No comments: