اپنے جذبات کو نہ جاننے یا جذباتی عدم واقفیت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے
کہ ہمارے معاشرے میں اسکول کی تعلیم، علمی بحث مباحثے اور شماریات (Facts & Figures) کی معلومات ہی کو ذہانت اور کامیابی کا معیار سمجھ لیا گیا ہے۔
جذباتی عدم استحکام کا شکار تو اکثریت ہے، لیکن میرے پاس جو لوگ آتے ہیں، حیرت
انگیز بات یہ ہے کہ جذباتی عدم آگہی یا جذباتی ناخواندگی (Emotional Illiteracy) کا تناسب اعلا تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے مرد و خواتین میں زیادہ
ہوتا ہے۔
ڈینیل گولمین لکھتا ہے کہ اس قسم کی جذباتی عدم واقفیت والے افراد کے
ساتھ بڑے عجیب قسم کے طبی مسائل جنم لیتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی کسی جذباتی مسئلے کی
وجہ سے کسی جسمانی مسئلے یا تکلیف سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ سائیکاٹری میں اس مظہر کو Somaticizing کہتے
ہیں۔ پھر خود مریض اور معالج دونوں کی توجہ جسمانی مسئلے کو حل کرنے کی طرف ہوجاتی
ہے۔ میرے ایک دوست کی بہن جو کالج میں پڑھتی تھی، شدید زخم معدہ (السر) کی مریضہ
تھی۔ تکلیف اتنی شدت اختیار کرجاتی تھی کہ وقفے وقفے سے الٹیاں بھی ہوجایا کرتی
تھیں۔ تین سال سے مختلف ماہر ڈاکٹروں کے علاج اور عامل حضرات کے وظائف و تعویذات
بے اثر ہوچکے تھے۔ بعض نے تو یہ تک کہہ دیا تھا کہ اس پر کسی نے کچھ کرا دیا ہے۔
کسی نے بتایا کہ جن آگیا ہے۔ تین سال کے دوران میں ہسپتالوں اور آستانوں کے چکر
لگانے کے بعد ایک بار ایمرجنسی میں میرے دوست کو اپنی بہن کو ایک ہسپتال لے جانا
پڑا۔ وہاں لیڈی ڈاکٹر نے فوری طور پر السر کو آرام دینے کے لیے ایک دوا دی اور ایک
ہفتہ بعد دوبارہ بلایا۔ ایک ہفتہ گزرا ہی نہ تھا کہ بہن کی طبیعت پھر خراب ہوگئی
تو اسی لیڈی ڈاکٹر کے پاس دوڑے۔ ڈاکٹر نے چیک اپ کیا، پھر خاصی دیر تک اس سے گفت
گو کی۔ پھر میرے دوست اور اس کی والدہ کو بلا کر ان سے کہا کہ دراصل اس کی طبیعت
اس لیے خراب ہوتی ہے کہ آپ نے اسے زبردستی کالج میں داخل کرایا ہے۔ اس کا کالج
چھڑوا دیں، اس کا السر ٹھیک ہوجائے گا۔ لیکن دوست اور اس کی والدہ اور خود اس کی
بہن نے انکار کیا کہ وہ زبردستی کالج نہیں بھیجی جاتی ہے۔ لیڈی ڈاکٹر نے دوبارہ
ہسٹری لی تو معلوم ہوا کہ جس زمانے میں کالج میں اسباق پر زور دیا جاتا ہے، انھی
دنوں میں اسے السر کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ ڈاکٹر نے میرے دوست کو مشورہ دیا کہ وہ
کالج کے پرنسپل سے یہ کہیں کہ ان کی بہن کو سبق یاد کرنے پر زور نہ دیا کریں۔
چنانچہ پرنسپل سے یہ گزارش اور ان کی بہن پر سے یہ دباؤ ہٹا دیا گیا۔ اس واقعے کو
کئی برس گزر چکے ہیں، اور اب یہ تکلیف ختم ہوچکی ہے۔
تاہم، یہ حل نہیں ہے، کیوں کہ امتحان میں کامیابی کے لیے اسباق یاد
کرنے پر زور دینا بھی ضروری ہے۔ چنانچہ ہمارے پاس جب اس قسم کا کوئی مسئلہ آتا ہے
تو اس کے اصل سبب کو این ایل پی، ہپناسس، ای ایف ٹی وغیرہ کے ذریعے ختم کیا جاتا
ہے۔ مائنڈ سائنس کے ذریعے جذباتی سپاٹ پن اور دیگر جذباتی مسائل کو بڑی تیزی اور
آسانی کے ساتھ حل کیا جاسکتا ہے۔

No comments:
Post a Comment