جذباتی ذہانت میں اضافے کے لیے یہ انتہائی لازمی ہے کہ آپ اپنے
احساسات (منفی ہو یا مثبت) کی ذمے داری خود قبول کریں۔ ذمے داری کا معاملہ جذبات و
احساسات کی نوعیت پر منحصر نہیں کہ میں فلاں کی وجہ سے خوش ہوں یا فلاں نے مجھے
طیش میں ڈال دیا۔ درحقیقت، اپنی جذباتی کیفیت کی ذمے داری قبول کرنا اپنے جذبات کو
کنٹرول کرنے کی جانب پہلا اور سب سے موثر قدم ہے۔
جذباتی ذمے داری کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک کا تعلق اپنی ذات سے ہے،
اور دوسرے کا تعلق دوسرے انسانوں سے۔
اپنے سے: جب کوئی آدمی یہ سمجھتا ہے کہ میں فلاں فرد یا واقعے کی وجہ سے خوش یا مسرور ہوں یا فلاں فرد یا واقعے نے مجھے غم یا خوف میں مبتلا کردیا ہے تو ایسے آدمی کے لیے اپنے احساسات کو کنٹرول کرنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔اس ذمے داری کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ احساسات کا باعث بننے والے خیالات کی پرداخت اس طرح کریں کہ منفی جذبات کی بہ جائے مثبت جذبات پروان چڑھیں۔ دراصل ہمارے خیالات ہی ہمارے جذبات و احساسات کی تشکیل کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے مثبت سوچ (Positive Thought) کی ترغیب دی جاتی ہے، کیوں کہ مثبت سوچ مثبت احساس کو جنم دیتی ہے۔ مثبت سوچ کے لیے بہتر ذہنی صحت (Mental Health) کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے اور اس کے لیے ضروری اقدامات اٹھانا بھی ضروری ہیں۔ (واضح رہے، سکون آور اور دیگر نفسیاتی دوائیں ذہنی صحت کی بہت بڑی دشمن ہیں۔)
اپنے سے: جب کوئی آدمی یہ سمجھتا ہے کہ میں فلاں فرد یا واقعے کی وجہ سے خوش یا مسرور ہوں یا فلاں فرد یا واقعے نے مجھے غم یا خوف میں مبتلا کردیا ہے تو ایسے آدمی کے لیے اپنے احساسات کو کنٹرول کرنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔اس ذمے داری کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ احساسات کا باعث بننے والے خیالات کی پرداخت اس طرح کریں کہ منفی جذبات کی بہ جائے مثبت جذبات پروان چڑھیں۔ دراصل ہمارے خیالات ہی ہمارے جذبات و احساسات کی تشکیل کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے مثبت سوچ (Positive Thought) کی ترغیب دی جاتی ہے، کیوں کہ مثبت سوچ مثبت احساس کو جنم دیتی ہے۔ مثبت سوچ کے لیے بہتر ذہنی صحت (Mental Health) کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے اور اس کے لیے ضروری اقدامات اٹھانا بھی ضروری ہیں۔ (واضح رہے، سکون آور اور دیگر نفسیاتی دوائیں ذہنی صحت کی بہت بڑی دشمن ہیں۔)
اپنی جذباتی کیفیت کی ذمے داری قبول کرنے کے لیے تین کام کیجیے:
1۔ اپنے آپ کو ٹھیس نہ پہنچائیے۔ یہ کام ہم خود
توقیری (سیلف ایسٹیم) میں کمی اور احساس کمتری کی صورت میں کرتے ہیں۔ کئی لوگ
مستقل طور پر اپنے آپ سے حالتِ جنگ میں رہتے ہیں۔ اپنا موازنہ و مقابلہ دوسروں سے
کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو منفی اور پرلے درجے کے القابات سے نوازتے ہیں۔ اپنی مہارتوں
کو کم تر خیال کرتے ہیں کہ میں ایسا تو نہیں کرسکتا، میں یہ کام کیسے کروں۔ اپنی
حوصلہ شکنی کرتے رہتے ہیں۔ اس قسم کا برتاؤ خود سے دشمنی کے مترادف ہے۔ جب آدمی
خود اپنا دشمن بن جائے تو اسے کسی بیرونی دشمن کی کیا ضرورت ہے؟
اپنی جذباتی کیفیت یا احساسات کی ذمے داری قبول کرنے کا رویہ آدمی کو
اپنے مسائل و اسباب کے نئے ممکنہ حل سجھاتا ہے۔ ذہن کا دریچہ کھلتا ہے اور ذاتی و
پیشہ ورانہ نمو کے نئے دروازے وا ہوتے ہیں۔
3۔ اپنے احساسات کو قبول کرنے کے بعد اپنی حدود
کا تعین کیجیے۔ جب آدمی کو یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کے کیا حقوق ہیں، کیا فرائض
ہیں، کیا حدود ہیں تو آدمی بہت سے ایسے بے بنیاد اور فضول ذہنی دباؤ (کرب) سے دور
ہوجاتا ہے کہ جو محض اپنی حدود کا علم نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے سینے میں لیے
پھرتا تھا۔
ان حدود کا علم نہ ہونے کی وجہ سے کئی لوگ ایسے دباؤ کا شکار رہتے ہیں جو صرف جہالت کی بنا پر ہوتا ہے۔ حدود کا شعور آدمی کو اپنی توانائیاں اُس جانب ضائع ہونے سے بچاتا ہے کہ جو اس کے دائرے سے باہر ہوں۔ چنانچہ وہ اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمے داریاں بہتر طور پر ادا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
ان حدود کا علم نہ ہونے کی وجہ سے کئی لوگ ایسے دباؤ کا شکار رہتے ہیں جو صرف جہالت کی بنا پر ہوتا ہے۔ حدود کا شعور آدمی کو اپنی توانائیاں اُس جانب ضائع ہونے سے بچاتا ہے کہ جو اس کے دائرے سے باہر ہوں۔ چنانچہ وہ اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمے داریاں بہتر طور پر ادا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
دوسروں کے لیے :ذمے داری کا دوسرا پہلو معاشرے سے تعلق
رکھتا ہے، یعنی آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ دوسروں کے جذبات و احساسات کے حوالے
سے آپ کی کیا ذمے داریاں ہیں۔ ذمے داری کا یہ حصہ جذباتی ذہانت کے ‘‘اجتماعی’’ (Inter Personal) حصے
سے تعلق رکھتا ہے۔
ہم ایک سماجی و معاشرتی مخلوق ہیں۔ہم تنہا زندگی گزار نہیں سکتے۔
زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہمیں اپنے ارد گرد موجود افراد کے جذبات و
احساسات کا خیال رکھنا ضروری ہے اور جذباتی ذہانت یہ کہتی ہے کہ دوسروں کی جذباتی
کیفیت کے اتار چڑھاؤ کی ذمے داری ہم پر ہے۔ اس ذمے داری کا آغاز سامنے والے کے
جذبات و احساسات کی ‘‘احترام’’ سے ہوتا ہے۔ جس طرح ہم کسی فرد کے رتبے کے اعتبار
سے اس کا احترام کرتے ہیں، اسی طرح اس فرد کے احساسات کا احترام بھی ہماری اولین
ذمے داری ہے۔
کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک خوش حال اور خوش گوار نہیں ہوسکتا، جب اس میں
بسنے والے افراد ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کا ادب اور احترام نہ کرتے ہوں۔
جب ہم دوسروں کے جذبات کا احترام کرتے ہیں تو جواب میں ہمارے جذبات
کا احترام بھی کیا جاتا ہے۔ بہت ہی مشہور مقولہ ہے، ‘‘اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری
عزت کی جائے تو تم دوسروں کی عزت کرو!’’ یہ قانونِ فطرت ہے کہ جو شخص کسی کی عزت
نہیں کرتا، معاشرے میں اس کی عزت نہیں رہتی۔ چنانچہ آپ کی عزت آپ کے ہاتھ میں ہے
اور دوسروں کی منفی یا مثبت جذباتی کیفیت کے ذمے دار آپ ہیں۔
ای کیو کے تناظر میں دوسروں کے احساسات کی ذمے داری قبول کرنے کا
مطلب ہے کہ دوسروں کے جذبات کو مجروح نہ کیا جائے۔ اختلاف تو فطری ہے، مگر اس
اختلاف کے اظہار کا انداز مثبت ہو۔ اختلاف کا اظہار نہ کرنا، بزدلی؛ اور اختلاف کا
غیر اخلاقی اظہار جہالت ہے۔
دوسروں کے احساسات کی ذمے داری قبول کرنے کی صلاحیت کو چار چاند اسی
وقت لگتے ہیں کہ جب ہم لوگوں سے مخلص ہوتے ہیں۔ محض چہرے کی مسکراہٹ اور جھوٹی
تعریف کبھی کسی کے دل میں گھر نہیں کرتی۔ یہ لیپا پوتی کبھی دیرپا نہیں ہوتی۔ دیر
پا محبت، صرف خلوص سے پیدا ہوتی ہے۔
گارڈنر لکھتا ہے، بین الافرادی (انٹر پرسنل) صلاحیت کی اصل یہ ہے کہ
آدمی سامنے والے کے موڈ (مزاج)، فطرت (ٹمپرامنٹ)، تحریک اور خواہشات پر درست
ردِعمل ظاہر کرے۔
یہ سب کچھ کرنے کے لیے جذبات کا مناسب اظہار اور درست ابلاغ چاہیے۔
اگرہم اپنے احساسات کا اظہار پُرخلوصانہ نہیں کریں گے تو ہمیں پتا نہیں چلے گا کہ
دوسرے کہاں کھڑے ہیں۔ یوں ہم ان کے بارے میں درست فیصلے بھی نہیں کرسکیں گے۔ یہ
مخلصانہ اظہار نہ صرف دوسروں کی مدد کرتا ہے بلکہ قریبی تعلقات بنانے میں بھی
آسانی ہوتی ہے۔

No comments:
Post a Comment