Friday, 20 July 2012

توازن


جذباتی ذہانت کے ضمن میں توازن کی انتہائی اہمیت ہے۔ ارسطو جیسے قدیم ترین فلسفی سے لے کر آج تک ہر معاشرے اور مکتب فکر میں بے شمار مفکرین نے توازن کی بات کی ہے اور اس کی اہمیت کو گردانا ہے۔

 ہم چونکہ اس تحریر میں بات جذبات کی کر رہے ہیں، تو اس حوالے سے آج ہم یہ جانتے ہیں کہ تاریخ میں جذبات کا تعلق دل سے قائم کیا جاتا رہا ہے۔ منطقی دماغ (Logical Brain) اور جذباتی دماغ (Emotional Brain) کی جدید اصطلاحات اس فکر کی توثیق کرتی ہیں۔ منطقی دماغ چیزوں کا تجزیہ کرتا اور موازنہ کرتا ہے۔ یہ دماغ حالات کا جائزہ لیتا اور خطرات و فوائد کا تجزیہ کرتا ہے۔ ای کیو کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ بلند تر ای کیو رکھنے والے افراد ان دونوں دماغوں (منطقی اور جذباتی) کے درمیان توازن رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مثال کے طور پر، آپ اپنا بزنس شروع کرنا چاہ رہے ہیں۔ ناکامی کی صورت میں نقصان سے ڈرتے ہیں جبکہ نفع سے محظوظ ہوتے ہیں۔ آپ کا منطقی یا بالائی دماغ آپ کے جذباتی یا زیریں دماغ سے گفت گو کرتا ہے تاکہ ممکنہ خطرات اور فوائد کا تجزیہ کیا جاسکے۔ جب آپ کا علت و معلول (Cause-Effect) اور جذبات ایک توازن میں ہوں تو طویل مدتی خوشی اور کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
توازن کے تناظر میں چار بنیادی پہلوؤں پر غور کرنا ضروری ہے:
الف) ذہنی انتشار 
ب) دھڑکن کا کنٹرول 
ج) خوشی میں تاخیر 
د) جذباتی بے تعلقی 
ذہنی انتشار: تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ انسانی جذبات حقیقت کو دیکھنے کے زاویے کو بدل ڈالتے ہیں۔ چنانچہ ایک ہی حقیقت کو چار مختلف افراد چار مختلف انداز سے دیکھتے اور پھر ایک ہی واقعے کو چار مختلف معانی دیتے ہیں۔ اس صلاحیت کو ’’ذہنی انتشار‘‘ (Cognitive Distortion) کہا جاتا ہے۔ چنانچہ ہمارے خیالات ہمارے جذبات و احساسات کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ جب ایسا ہوتا ہے تو ہم غیر متوازن ہوکر حقیقت (واقعہ) کا مطالعہ و مشاہدہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر:
*
ہم جذبات کی بنیاد پر کوئی غلط نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ جیسے، کسی فرد کا یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ناکام ہوگا، کیوں کہ وہ خود کو ناکام فرد کے طور پر محسوس کرتا ہے۔ اسے ‘‘جذباتی علت’’ (Emotional Reasoning) کہتے ہیں۔
*
ایک اور صورت میں ہم اپنے جذبات کے قیدی ہوجاتے ہیں۔ کسی خاص کام کے ضمن میں ہم خود کو کسی کام کے قابل نہیں پاتے، خواہ ظاہری حالات اس کی نفی ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔ یہ کیفیت ‘‘جذباتی قید’’ (Emotional Imprisonment) ہے۔
*
ہم بعض اوقات کسی صورتِ حال کو ایک مثبت یا منفی روشنی میں دیکھتے ہیں۔مثلاً کسی واقعے میں کسی مسئلے کو ہم بہت بڑے خطرے کی علامت سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ ذہنی فلٹرنگ یا ذہنی رنگینی ہے۔
*
اکثر ایک واقعے کی بنیاد پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ‘‘ہمیشہ’’ ایسا ہی ہوگا۔ مثال کے طور پر، آپ اپنے کسی دوست کے ہاں پہلی بار گئے۔ اس کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو پتا چلا کہ وہ شہر سے باہر گیا ہوا ہے۔ چنانچہ اب آپ جب بھی اس کے گھر جانے کا سوچتے ہیں، یہ خدشہ جنم لیتا ہے کہ کہیں وہ شہر سے باہر نہ گیا ہوا ہو۔ یہ چیز ‘‘زائداز تعمیم’’ (Over-Generalization) ہے۔
دھڑکن کا کنٹرول: بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ اپنی دھڑکن کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت بلند تر جذباتی ذہانت کی علامت ہے۔ دھڑکن کے کنٹرول میں صرف یہی نہیں کہ آپ کسی بھی موقع پر اپنی دل کی بڑھی ہوئی دھڑکن کو کم کرنے کے قابل ہوں بلکہ بلند تر جذباتی ذہانت یہ بھی ہے کہ آپ اپنی دھڑکن کو بہ وقت ضرورت بڑھا سکیں۔ جیسے، اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ غصہ منفی شے ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ غصہ بُرا ہے اور نہ بھلا، یہ منحصر ہے معاملے پر کہ اس وقت غصے کی ضرورت ہے یا برداشت کی۔ جذباتی ذہانت یہ ہے کہ آپ اپنے غصے کی حالت کو کم یا زیادہ، ختم اور پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ یہ صلاحیت ‘‘دھڑکن کا کنٹرول’’ (Impulse Control) کہلاتی ہے۔
خوشی میں اختیار: اپنے جذبات کو اعتدال پر رکھنے کی خوبی ہمارے اندر خوش ہونے کی صلاحیت بھی پیدا کرتی ہے۔ جب ایک آدمی نیا بزنس شروع کرتا ہے تو اسے گھنٹوں سخت محنت کرنی پڑتی ہے، صرف اس لیے کہ اس کے بعد اسے انعام کی امید ہوتی ہے۔ جذباتی طور پر کم ذہین لوگ اپنی خوشی کو دوسروں کے ہاتھ میں سمجھتے ہیں، اس لیے اپنی زندگی میں خوشی اپنی مرضی سے پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ وہ خوش ہونے کے لیے افراد اور حالات کی طرف دیکھتے ہیں۔ چنانچہ زندگی کی خوشی ان سے بھاگتی ہے۔ جذباتی ذہانت انسان کے اندر اول یہ شعور پیدا کرتی ہے کہ اس کی زندگی کی خوشی اس کے اپنے اختیار میں ہے اور پھر اس میں یہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے کہ وہ خوش رہ سکے۔

No comments: