Monday, 2 July 2012

سیلف سائنس اور ای کیو


اب تک کی گفت گو کے دوران میں آپ کی نظر سے دو نئے الفاظ گزرے ہوں گے: ای کیو اور سیلف سائنس۔ ہم ان دونوں کی وضاحت کرتے چلیں تاکہ موضوع کو سمجھنے اور دی گئی مشقیں کرنے میں آسانی ہو۔
انسان جذبات سے مرکب ہے: ہر انسان بنیادی طور پر جذبات کا ساختہ ہے۔ میں اور آپ، ہر وقت دن اور رات میں کہیں بھی ہوں، کسی بھی حالت میں ہوں۔ کسی نہ کسی جذبے (Emotion) یا احساس (Feeling) کا تجربہ ضرور کر رہے ہوتے ہیں۔ تاہم اکثر یہ جذبہ یا احساس منفی ہوتا ہے۔ یا پھر زیادہ سے زیادہ ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس منفی احساس کو محسوس نہ کریں۔ مثبت اور بھرپور احساس کا تو شائبہ بھی نہیں گزرتا۔

ہمارے معاشرے میں عموماً امتحان میں زیادہ نمبر لینے والوں اور دفتر میں اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں میں پڑنے والوں کو ذہین شمار کیا جاتا ہے۔ اس قسم کے ذہین افراد کو اپنے احساسات کو گویا گھاس ہی نہیں ڈالتے۔ ایسا نہیں کہ وہ جذبات و احساسات سے عاری ہیں، بلکہ انھیں اپنے احساسات و جذبات کا شعور ہی نہیں ہوتا۔ یہ ’’ذہین‘‘ لوگ اعلا تعلیمی قابلیت کو اپنی کامیابی، ترقی، خوشی اور خوش حالی کا ذریعہ سمجھتے رہتے ہیں۔ نیز اپنے احساسات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے خوش گوار زندگی کی خواہش کرتے ہیں۔ 
جدید تحقیق اس فکر کی نفی کرتی ہے۔ بنیادی طور پر، انسان کے جسم میں دو دماغ ہوتے ہیں: منطقی دماغ؛ جذباتی دماغ۔ جب ایک انسان اعلا تعلیمی قابلیت، اچھے گریڈ، زیادہ دولت، زیادہ اسکور کے آئی کیو، اچھے عہدے وغیرہ کے ذریعے خوشی حاصل کرنے کی خواہش اور کوشش کرتا ہے تو درحقیقت ہم منطقی دماغ سے اس چیز کے حصول کی خواہش کرتے ہیں کہ جو جذباتی دماغ کی مصنوعہ (پروڈکٹ) ہے۔ یوں بہ الفاظ دیگر، منطقی دماغ اور جذباتی دماغ کے درمیان ایک جھگڑا شروع ہوجاتا ہے۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ دماغ کے دونوں حصوں کا کام بڑا واضح ہے، اور یہ اس وقت موثر طور پر کام کرتے ہیں کہ جب ان سے وہی کام لیا جائے کہ جو اُن کے ذمے ہے۔
جب ہم اپنے احساسات و جذبات سے لڑتے، انھیں مسترد کرتے، ان سے صرفِ نظر کرتے ہیں تو درحقیقت اپنی بے پناہ توانائی اور وقت ضائع کرتے ہیں۔ اس طرح احساسات پر کوئی تو فرق نہیں پڑتا، البتہ ہم یوں ہی اپنے آپ سے لڑتے رہتے ہیں، حقیقت کو تسلیم کیے بغیر۔ اور یوں ذہنی دباؤ، خلفشار اور پریشانیاں شدید سے شدید تر ہوتی چلی جاتی ہیں۔ ہم جو کچھ ہیں، اسے تسلیم کرنے کی بہ جائے ویسا بننے کی کوشش میں رہتے ہیں کہ جیسے ہمارے ماں باپ، ہمارے اساتذہ، ہمارے درست احباب اور رشتے دار وغیرہ چاہتے ہیں۔ یہ مزاج مزید خرابی پیدا کرتا ہے۔ خوش رہنے کے لیے ہمیں اپنے آپ (Self) کو ویسا بنانا ہوگا کہ جیسا یہ ہے۔ ہم تبدیلی اور بہتری چاہتے ہیں، لیکن فطری تبدیلی وہی ہے جو ہمارے ‘‘آپ’’ (سیلف) سے نمو پائے۔ لیکن ہم اپنے فطری ’’آپ‘‘ سے لڑتے ہوئے ساری زندگی ویسا بننے کی کوشش میں رہتے ہیں کہ جیسا دوسرے چاہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خواہ کتنے ہی پڑھ لکھ جائیں، کتنے ہی خوب صورت ہوجائیں، کتنے ہی لوگ ہمارے گرویدہ ہوجائیں، ہمارا وقت اور ہماری توانائیاں ضائع ہی ہو رہے ہوتے ہیں۔ ہم زیادہ نمبر لے کر بڑی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد اضمحلال کا شکار ہوتے رہتے ہیں کہ اب کیا کریں؟ آگے کیا ہے؟ یا اور نمایاں کیسے ہوا جائے؟
میرے پاس اسٹریس کے علاج کے لیے ایسے ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو بلند ترین تعلیمی ریکارڈ کے حامل تھے، کثیر ملکی یا بڑی قومی کمپنیوں سے وابستہ تھے، لیکن شدید اضمحلال، تناؤ، اور کشیدگی کا شکار۔ لوگ پچاس پچپن ساٹھ سال کی جدوجہد بھری زندگی گزارنے کے بعد بھی اپنے لاشعور میں یہ سوال لیے پھرتے ہیں، میری شدید محنت اور جہد کا انجام بس یہی کرب ہے! 
یہی وہ صورتِ حال ہے کہ جس کے باعث دنیا تعلیمی ذہانت (Educational Intelligence) سے ہٹ کر جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence) کی طرف متوجہ ہوئے۔ جذباتی ذہانت نے ‘‘ذہین’’ افراد اور ‘‘ذہانت’’ کا ایک نیا معیار متعارف کرایا۔ چنانچہ پہلے اگر یہ سمجھا جاتا تھا کہ ‘‘میں جیسا محسوس کرتا ہوں، ویسا ہی ہوں،’’ کی جگہ یہ تسلیم کیا جانے لگا کہ اپنے جذبات کو کنٹرول کیا اور بدلا جاسکتا ہے۔
اس طویل تحریر کا بنیادی مقصد اپنے قارئین کے اس پرانے یقین کو بدلنا اور انھیں یہ باور کرانا ہے کہ جذباتی ذہانت اختیار کرکے آپ اپنی زندگی کے تجربات اور ان کے ردِعمل کو بدل سکتے ہیں؛ نیز اپنی زندگی میں کرب اور پریشانی کی جگہ خوشی اور توانائی پاسکتے ہیں۔ یہ صلاحیت آپ کے اندر انفرادی سطح پر بھی تبدیلی لائے گی اور آپ معاشرے میں بھی ایک نئی تبدیلی کا آغاز کر پائیں گے۔ میں ضمانت دیتا ہوں، اس طرح آپ بہت تیزی کے ساتھ اپنے زندگی کے ہر شعبے میں تیز تر ترقی اور کامیابی کے راستے پر گام زن ہوسکیں گے۔
چند سوالات: ’’ہم وہ کام کیوں کرتے ہیں، جن کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کہ یہ کام مسترد کردیا جائے گا؟’’، ‘‘میں اپنے معاشرے میں کیسے مثبت تبدیلی لاسکتا ہوں؟’’، ‘‘خوشی کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟’’، ‘‘غصے، تشدد، بے صبری اور لالچ کی بنیادی وجہ کیا ہے؟’’، ‘‘لوگ آج کل ایک دوسرے سے اتنے کٹے ہوئے اور انسانوں سے بے پروا کیوں ہوگئے ہیں؟’’، ‘‘امیر ترین اور ترقی یافتہ ملکوں کے باشندے بھی اتنے ناخوش اور پریشان کیوں ہیں؟’’، ‘‘نوجوان کیوں خودکشی کر رہے ہیں اور ایک دوسرے پر تشدد کر رہے ہیں؟’’، ‘‘اعلا تعلیم حاصل کرنے اور اعلا عہدے پر فائز ہونے کے بعد لوگ ڈپریس اور الجھے ہوئے کیوں رہتے ہیں؟’’
یہ تمام سوالات آج کے معاشرے کی صورتِ حال کے عکاس ہیں اور جذباتی ذہانت کی تحقیق کے دائرے میں آتے ہیں۔ گویا، جذباتی ذہانت کے ذریعے ان سوالات کے تشفی بخش جوابات اور ان مسائل کے حل تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ ان تمام سوالات کا تعلق انسان کی فطری جذباتی ضرورت اور جذباتی مہارت سے ہے۔
تحقیق بتاتی ہے کہ لاکھوں سال کی نمو کے بعد انسانی جذبات تشکیل پائے ہیں۔ انسان کی مختلف ضروریات ہر وقت اس کے ساتھ لگی رہتی ہیں۔ جب انسان کی کوئی ضرورت پوری نہیں ہوتی تو وہ کوئی منفی جذبہ محسوس کرتا ہے۔ جب وہ اچھا محسوس نہیں کرتا تو ناخوش ہوجاتا ہے۔ اسی طرح، جب کوئی ضرورت (یاخواہش) پوری ہوجاتی ہے تو آدمی اچھا محسوس کرتا ہے اور خوش ہوجاتا ہے۔ یوں، جذباتی ذہانت کی ایک سادہ تعریف یہ بھی کی جاتی ہے کہ وہ مہارت جس سے آدمی یہ جان سکے کہ اسے کس چیز سے اچھا محسوس ہوتا اور کس چیز سے بُرا محسوس ہوتا ہے اور بُرے احساس سے اچھے احساس میں کیسے آسکتے ہیں۔
جس طرح ہر انسان کے انگوٹھوں کے نشانات منفرد ہوتے ہیں، اسی طرح اس کے مجموعی جذبات بھی منفرد ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک بالکل مختلف گھریلو، معاشرتی، سماجی اور تعلیمی ڈھانچے سے گزرتا رہتا ہے، اور کوئی سے دو افراد بالکل یکساں ڈھانچے کا تجربہ نہیں کرتے۔ اس بنا پر انسانی ذہن کے لاشعور میں موجود ذخیرہ گاہ میں جو معلومات موجود ہوتی ہیں، وہ بھی بالکل منفرد اور مختلف ہوتی ہیں۔
اگرچہ ہر انسان انفرادی طور پر جذباتی سطح پر بالکل منفرد ہوتا ہے، تاہم ہر فرد میں ایک جیسے پروسیس کے ذریعے خاص جذباتی مزاج تشکیل پاتا ہے۔ یہ جذباتی مزاج اس کے والدین، اساتذہ، رشتے دار، محلہ، ماحول، معاشرہ، روایات وغیرہ سے متاثر ہوتا ہے۔

No comments: