جذبات سے واقفیت کی صلاحیت غالباً جذباتی ذہانت میں سب سے اہم ہے۔ اپنے
جذبات و احساسات سے واقفیت کے بغیر خوش گوار زندگی ممکن نہیں ہے۔ جذباتی شعور یا
جذباتی واقفیت میں یہ بھی شامل ہے کہ موجود احساس کے سبب سے بھی واقفیت ہو۔ جذبات
و احساسات کے شعور اور اپنے احساسات سے مکمل طور پر آگہی کے لیے ان پر توجہ کرنا،
انھیں تسلیم کرنا اور انھیں شناخت کرنا بہت ضروری ہے۔
ہمارے جذبات ہماری توجہ چاہتے ہیں۔ یہ ہماری توجہ حاصل کرنے کے لیے
کئی طریقے اختیار کرتے ہیں۔ اس کے لیے وہ ہمارے ذہن اور جسم کو اشارے (سگنل)
بھیجتے ہیں۔ اگر ان اشاروں کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا
جاتا ہے۔ عام طور پر لوگ اس پر توجہ نہیں دیتے، اور کسی بھی منفی احساس یعنی
جذباتی کیفیت میں زیادہ کھا کر، زیادہ سو کر، دوستوں سے بے مقصد گپ شپ کر کے،
زیادہ ورزش کر کے یا زیادہ سے زیادہ ٹی وی دیکھ کر اسے نظر انداز کرنے کی کوشش
کرتے ہیں۔ احساس کی فطرت یہ ہے کہ اسے نظر انداز کرنے سے وہ کم نہیں ہوتا، اندر
خانہ بڑھتا ہی رہتا ہے۔ چنانچہ جب موجود احساس یہ جانتا ہے کہ اسے نظر انداز کیا
جارہا ہے تو وہ ذہن اور جسم کو جو اشارے بھیج رہا ہے، ان میں اضافہ کردیتا ہے۔ ان
اشاروں کی شدت بڑھنے سے ڈپریشن، ٹینشن، یا اسٹریس پیدا ہوتا ہے، اور ذہنی اذیت
بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔
خیالات میں انتشار بھی اپنے موجود احساس پر توجہ نہ کرنے کی بڑی
علامت ہے۔ یہ منتشر خیالی اکثر شدید ذہنی کرب (اسٹریس) اور الجھن کا باعث بنتی ہے
جو کئی بار تو ساری زندگی جاری رہتی ہے۔
یاد رکھیے، منفی احساس بُری شے نہیں ہے۔ منفی احساس آپ کے ذہن کا ایک
فطری ردعمل ہے جس کا مقصد اس احساس کے اصل سبب پر توجہ کرنا اور اسے دور کرنا ہوتا
ہے۔ لیکن جب ہم کسی بھی موجود احساس کو نظر انداز کرتے ہیں تو نہ احساس ختم ہوتا
ہے اور نہ اس احساس کا باعث بننے والا مسئلہ (واقعہ/ معاملہ/ تجربہ) حل ہوتا ہے۔یہ
بالکل ایسا ہی جیسے جسم کے کسی حصے میں درد علامت ہوتا ہے کسی عضو میں خرابی کی۔
اگر درد نہ ہو تو خرابی بڑھتی ہی چلی جائے گی اور ہم کبھی بھی اس خرابی کی طرف
متوجہ نہیں ہوں گے۔
ایک بار جب آپ کسی احساس سے واقف ہوگئے تو اگلا مرحلہ یہ جاننا ہے کہ
یہ احساس یا جذبہ ہمیں کیا بتانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پھر اس سے حاصل ہونے والی
معلومات کو اس احساس کو کنٹرول کرنے اور اس کے سبب کو دور کرنے کی تدابیر کی
جائیں۔

No comments:
Post a Comment