Friday, 27 July 2012

جذباتی ذہانت بڑھانے کی چھے مشقیں

ذیل کے چھے مشقیں کیجیے، آپ اپنی جذباتی ذہانت کو بڑھا کر انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر بہتری ای کیو لیول کا اظہار کرسکیں گے۔

1۔ جذبات کو جانچئے: صبح سے رات گئے تک، دن بھر میں آپ درجنوں احساسات کو محسوس کرتے ہیں۔ ان میں مثبت بھی ہوتے ہیں اور منفی بھی۔ یہ جذبات و احساسات آپ پر، آپ کے کاموں اور پھر آپ کے نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہم جو کچھ کرتے ہیں، جیسا کرتے ہیں، اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی جذبہ (ایموشن) یا احساس (فیلنگ) کارفرما ہوتا ہے۔ آپ جو کچھ بھی اپنے گھر یا دفتر میں کرتے ہیں، ایک دن وہ تو عام انداز سے معمول کے مطابق کریں، لیکن اسی کے ساتھ جو بھی کام کر رہے ہیں، اس وقت آپ کی جو جذباتی کیفیت ہے، اس پر بھی توجہ کیجیے۔ جانچئے کہ کون سا کام کرتے وقت کیا احساس آپ کے اندر ہوتا ہے اور اس احساس کی بنا پر آپ وہ کام ‘‘کیسے’’ کرتے ہیں۔
آپ کو کئی بار یہ اندازہ ہوگا کہ ہوائی جہاز کے آٹو پائلٹ کی طرح آپ کے بعض جذبات، بعض خیالات بھی خود بہ خود عود کر آرہے ہوں گے۔ ان جذبات یا احساسات کا تجزیہ کیجیے اور اس لمحے کاغذ پر ان احساسات کی نوعیت لکھ لیجیے۔ ایک بار جب آپ اپنے افعال کی جذباتی تحریک کو شناخت کرنے کی مہارت پیدا کرلیں گے تو آپ اپنے جذبات اور ان کو محسوس کرنے کے طریقہ عمل (پروسیس) کو بھی سمجھ جائیں گے۔
2۔ اپنا اظہار کیجیے: اپنے احساس یا جذبے کو جاننا ایک قدم ہے اور اپنے احساس کا دوسروں سے صحیح اظہار، دوسرا قدم ہے۔ جب آپ اپنے احساس کو صحیح طور پر شناخت کرلیتے ہیں، تب بھی یہ ممکن ہوتا ہے کہ آپ اس کا اظہار صحیح یا مناسب طور پر نہ کرسکیں۔ یاد رکھیے، اپنے موجود احساس کو شناخت کرنا جتنا اہم ہے، اتنا ہی اہم اس احساس کے درست اظہار کی صلاحیت ہے۔ اور یہ صلاحیت حاصل کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنے جذبات کا اظہار کیا جائے۔ کام کرنے ہی سے آتا ہے۔ چنانچہ اگلی بار جب آپ غم، پژمردگی، مایوسی، اسٹریس، الجھن، خوشی، ترنگ یا کوئی اور جذبہ محسوس کریں تو اپنے کسی ایسے دوست یا رشتے دار کو فون کرکے اسے اپنی جذباتی کیفیت بتائیے کہ جس کا ای کیو لیول بہتر ہو۔ اسے صورتِ حال اور اس سے پیدا ہونے والے احساس سے آگاہ کیجیے۔ اس سے پوچھئے کہ اُس کے خیال میں ایک بہتر ای کیو والے شخص کااحساس، اس صورتِ حال میں کیا ہونا چاہیے۔ بتائے گئے احساس کا موازنہ اپنے موجود احساس سے کیجیے۔
3۔ جذبات کو کنٹرول کرنا سیکھئے: اسٹریس، ڈپریشن، الجھن وغیرہ چند بہت ہی عام منفی احساسات ہیں جن سے شاید ہر شخص کا روز ہی پالا پڑتا ہے۔ جذباتی ذہین ہونے کے لیے اپنے منفی جذبات کو صحیح طور سے کنٹرول کرنے کی مہارت ہونا بہت ضروری ہے۔ جب آپ اپنی منفی جذباتی کیفیت کو شناخت کرلیں تو پھر اس منفی احساس سے خلاصی کی تدبیر بھی کریں۔ جذبات کو کنٹرول کرنے کے بے انتہا طریقے ہیں اور مختلف لوگوں کے مزاج کے لحاظ سے یہ طریقے مختلف سطح پر کارگر ہوتے ہیں۔ بہتر بلکہ ضروری ہے کہ جذبات کو کنٹرول کرنے کے چند طریقے سیکھے جائیں۔
جب آپ کسی منفی جذباتی کیفیت کا تجربہ کریں تو اسے ختم کرنے کے لیے ان میں سے کوئی طریقہ موقع محل کی مناسبت سے استعمال کیجیے۔ مائنڈ سائنس اور متبادل معالجات میں جذبات و احساسات کو کنٹرول کرنے کے بہت ہی موثر اور بہت ہی آسان طریقے موجود ہیں۔ اور یہ طریقے میں کئی برس سے لوگوں کو سکھا رہا ہوں۔
4۔ سننے کے ماہر بنئے: کہاوت ہے، اللہ نے سننے کے لیے کان ‘‘دو’’، اور بولنے کے لیے ‘‘منھ’’ایک دیا ہے۔ یعنی، آدمی کو کم سے کم بولنا اور زیادہ سے زیادہ سننا چاہیے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بولنے کی صلاحیت (اسپیکنگ اسکل) کی طرح سننا بھی ایک بڑا فن (Listening Skill) ہے ۔ زیادہ سے زیادہ سننا جذباتی ذہانت میں اضافے کی بنیادی شرط ہے۔ اگلی بار جب کوئی دوست یا فرد آپ کے پاس آئے تو اس کی بات کو زیادہ سے زیادہ سنئے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اسے کھل کر اپنے احساسات کا اظہار کرنے دیجیے۔ رائے دینے دیجیے۔
خاموشی اور یک سوئی سے دیر تک اس کی گفت گو سن کر آپ اس کے مسئلے کو کہیں بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہوسکیں گے اور حل بھی بہتر بتا پائیں گے۔
5۔غیر لفظی جذباتی اشارے سمجھئے: انسان اپنے الفاظ سے صرف سات فی صد اپنی بات دوسرے تک پہنچاتا ہے جبکہ الفاظ کے ذریعے وہ اپنی بات کا ابلاغ 38 فی صد کرتا ہے۔ بلکہ اکثر لوگ اپنی جذباتی کیفیت کا اظہار الفاظ سے بالکل ہی نہیں کرپاتے، جسمانی اشاروں (باڈی لینگویج) سے ہی اظہار کرتے ہیں۔
دوسروں کے احساسات و جذبات کو شناخت کرنے اور سمجھنے کے لیے بہت ہی ضروری ہے کہ آدمی سامنے والے کے غیر لفظی اشارے اور علامات پر توجہ دے اور انھیں سمجھے۔ اس صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے آپ ٹی وی پر فلمیں یا ڈرامے اور سیاسی تقاریر دیکھئے۔ اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے احباب کو بتائیے کہ فلاں اداکار یا سیاست داں اپنے چہرے کے تاثرات سے کیا بتانا چاہ رہا ہے۔
6۔ شخصیت کی آئینہ کاری کیجیے: آئینہ کاری (Mirroring) کسی فرد کی جذباتی کیفیت کو سمجھنے اور اس سے منعکس ہونے والے مفہوم کو جانچنے کا ایک موثر طریقہ ہے۔ آئینہ کاری کا طریقہ یہ ہے کہ ایک فرد نے جس طرح اپنے چہرے کے تاثرات اور جسمانی حرکات کا اظہار کیا ہے، اسی طرح آپ بھی (من و عن) کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ موثر طور پر کسی کی آئینہ کاری کرلیتے ہیں تو تقریباً وہی جذبات آپ کے اندر بھی پیدا ہوں گے۔یوں آپ اس کے جذبات سے واقف ہونے کے قابل ہوپائیں گے۔
این ایل پی میں اس تکنیک سے بڑا کام لیا جاتا ہے اور بڑے بڑے گھریلو اور دفتری تنازعات اس تکنیک کے ذریعے حل ہوجاتے ہیں۔ دراصل اس تکنیک کے ذریعے ایک انسان دوسرے انسان کی جذباتی کیفیت سے آگاہ ہوسکتا ہے، اور یوں ایک دوسرے کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔

No comments: