اپنے جذبات کی بنیاد پر اپنی زندگی کے
اہداف کے تعین کے لیے درج ذیل تین اقدامات کیجیے:
1۔ وہ اہداف طے کیجیے جو آپ کو تحریک دیں: یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ کون سے کام آپ کو زیادہ سے زیادہ تحریک
دیتے ہیں۔ یہ تحریک یا موٹیویشن آدمی کے لیے طاقت وَر ایندھن (فیول) کا کام کرتی
ہے۔ کسی بھی ہدف (یا کام) کے لیے آپ اپنے مثبت احساسات سے جتنے زیادہ باخبرہوں گے،
اتنا ہی زیادہ واضح اور بڑے اہداف آپ تصور (Visualize) اور
طے کرسکیں گے۔
دراصل، جب آپ اپنے اہداف کی تصویر اپنے ذہن میں بنانا شروع کرتے ہیں
تو اپنے اہداف سے مربوط کامیابی کو محسوس بھی کرنے لگتے ہیں۔ آپ کا منطقی دماغ
مستقبل کی تصویر بناتا ہے اور جذباتی دماغ اس تصویر سے متاثر ہو کر جنون پاتا ہے۔
تحقیقات بتاتی ہیں کہ جذباتی دماغ حقیقت اور تصور کے درمیان فرق نہیں کرپاتا۔
چنانچہ یہ ہر حال میں یک ساں اور بھرپور کام کرتا ہے۔ خوشی، انگیخت اور جنون کی
طرح یہ پریشانی، الجھن، دیگر منفی کیفیات میں بھی اسی طرح پروسیس کرتا ہے۔
درست کیریر کا تعین: ایک درست اور بھرپور
کیریر کا انتخاب آج کے نوجوان کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستانی معاشرے میں بھیڑ
چال کا مزاج ہے۔ چنانچہ نوجوانوں کی بہت بڑی اکثریت یہ دیکھتی ہے کہ ان کے دوست،
رشتے دار، احباب کیا کر رہے ہیں۔ پھر ان کی دیکھا دیکھی، وہ بھی وہی کچھ کرنا شروع
کردیتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے اور میرے پاس بڑی بڑی کمپنیوں کے اعلا افسران (جن
کی تنخواہیں بعض اوقات لاکھ سے اوپر ہوتی ہیں) لائف کوچنگ کے لیے آتے ہیں، ان کا
سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا طویل وقت ایک بہ ظاہر اچھے
پروفیشن میں گزارنے کے بعد بھی اسی شش و پنج میں مبتلا ہوتے ہیں کہ میں کیا کروں؟
دراصل انھیں اس کام سے تشفی حاصل نہیں ہورہی ہوتی کہ جو وہ عرصے سے کر رہے ہیں۔
زندگی کے آخری ایام میں یہ چیز اُن کے ذہن کو کچوکے لگا تی رہتی ہے۔ ساری زندگی جس
کام میں لگادی، اس کام پر کف افسوس مل رہے ہوتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنی زندگی
ضائع کردی۔ بعض اس کا اظہار کھل کر بھی کردیتے ہیں؛ اکثریت میں یہ غلطی قبول کرنے
کی جرات نہیں ہے۔
جذباتی ذہانت استعمال کرتے ہوئے کیریر کا انتخاب زندگی میں خوشی اور
سرور لاسکتا ہے۔ یہ بہت آسان ہے۔ آغاز اپنے آپ سے ذیل کے سوالات پوچھتے ہوئے
کیجیے۔
1۔ اگر اس دنیا میں (دولت) کی کوئی حیثیت نہ رہے تو میں کیا کروں گا/ گی؟
2۔ دنیا میں کس چیز کی ضرورت ہے؟
3۔ کس کام کو کر کے مجھے واقعتہً مزہ آتا ہے؟
1۔ اگر اس دنیا میں (دولت) کی کوئی حیثیت نہ رہے تو میں کیا کروں گا/ گی؟
2۔ دنیا میں کس چیز کی ضرورت ہے؟
3۔ کس کام کو کر کے مجھے واقعتہً مزہ آتا ہے؟
ان سوالات کے جوابات کاغذ پر لکھنے سے آپ کو اپنی زندگی کا مشن پتا
چل سکتا ہے۔ آپ کو معلوم ہوسکتا ہے، آپ خود اپنی شخصیت، اپنے مزاج اور اپنی فطرت
کے اعتبار سے کیا کرنا چاہتے ہیں۔ جب کام کرنے کی تحریک سے پیسہ نکل جائے گا تو آپ
اس کام کے بارے میں جان سکیں گے کہ جسے کرنے سے آپ کو لطف آئے۔ عموماً لوگ پیسہ
کمانے کے چکر میں اپنے اندر کے لطف (Self Joy) اور اطمینان (Self Satisfaction) کو
نظرانداز کردیتے ہیں۔
اپنی زندگی کے مشن کا تعین اپنی خوشی اور لطف کے مطابق کرنے کے بعد آپ جو کام کریں گے، اس سے آپ کو پیسہ بھی ملے گااور زندگی کا لطف بھی۔ آپ اپنے پروفیشن سے بیزار اور تھکن کا شکار نہیں ہوں گے۔
اپنی زندگی کے مشن کا تعین اپنی خوشی اور لطف کے مطابق کرنے کے بعد آپ جو کام کریں گے، اس سے آپ کو پیسہ بھی ملے گااور زندگی کا لطف بھی۔ آپ اپنے پروفیشن سے بیزار اور تھکن کا شکار نہیں ہوں گے۔
لوگ سب سے بڑی غلطی یہ کرتے ہیں کہ وہ پیسہ کمانے کے لیے کسی بھی
کیریر (پروفیشن) کا انتخاب کرتے ہیں۔ کیریر کا انتخاب اپنے اطمینان اور لطف کے
حصول کے ساتھ ہونا چاہیے۔ پیسہ (دولت / تنخواہ) ہمیشہ ضمنی مصنوعہ یعنی بائی
پروڈکٹ ہونی چاہیے۔ سیلف امپروومنٹ (خودنموئی) کے ماہرین تو یہ کہتے ہیں کہ جو لوگ
صرف پیسہ کمانے کے لیے کام کرتے ہیں، ہمیشہ پریشان ہی رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے
پیسہ دور بھاگتا ہے۔ اس کے برخلاف جب آپ اپنی پسند کے کام کا انتخاب کرتے ہیں تو پیسہ
آپ کے پیچھے پیچھے آتا ہے۔
ایک بار جب آپ اپنی زندگی کے مشن (مقصد) کو دریافت کرلیتے ہیں تو اس
سے مربوط آپ کے جذبات ایک طاقت وَر اور بڑے مقناطیس کے طور پر کام کرتے ہیں جو آپ
کو آپ کے ہدف (یا اہداف) کی طرف کھینچتا رہتا ہے۔ یہ قوت شاہ راہِ زندگی پر آپ کو
آگے بڑھاتی ہے اور مثبت احساسات کی خواہش بن جاتی ہے، بہ جائے تکلیف اور درد سے
بچاؤ کے۔ جب آپ اپنے اہداف پرکام کرتے ہیں تو آپ اس سفر کے ہر موڑ پر اچھا محسوس
کرتے ہیں، کیوں کہ آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے ہیں، اپنی ترقی اور نمو کو محسوس کرتے
ہیں۔
ایسا فرد کام کو بوجھ سمجھنے کی بہ جائے کام کے ذریعے مثبت جذباتی
کیفیت میں انگیخت پاتا ہے۔ وہ اپنے اہداف تک پہنچنے کے لیے اپنے یقین اور اقدار کو
استعمال کرتا ہے، اس لیے اس کی زندگی میں سکون ہوتا ہے۔ یہ برتاؤ اس کے اندر اپنے
کام سے محبت پیدا کردیتا ہے۔ وہ اپنے کام سے اس لیے بھی محبت کرتا ہے کہ وہ اس کا
انتخاب خود کرتا ہے۔ اور اس لیے منتخب کرتا ہے کہ اسے اس کام سے محبت ہوتی ہے۔
چنانچہ وہ جتنا کام کرتا ہے، اسے اتنا ہی آرام اور سکون ملتا ہے۔
دراصل، ہمارے پاس ہمیشہ پسند کے کام اور ناپسند کے کام کا انتخاب
موجود ہوتا ہے۔ عموماً لوگ بالخصوص نوجوان پیسہ کمانے کے چکر میں ایسے کام کا
انتخاب کرتے ہیں جس میں ان کی تنخواہ زیادہ ہو، خواہ کام ان کی پسند کا نہ ہو بلکہ
جس کام کا انتخاب کیا جاتا ہے، وہ اکثر انتہائی بیزار کرنے والا ہوتا ہے۔ ماہرین
کہتے ہیں، دنیا میں کسی فرد کو نہیں دیکھا گیا کہ اس نے ناپسندیدہ کام کیا ہو، اور
اس میں نام اور خوشی کمائی ہو۔ جو لوگ ناپسندیدہ کیریر کا انتخاب کرتے ہیں، ہمیشہ
شکوے شکایتیں کرتے ہی ان کی زندگی گزرتی ہے۔ بات زیادہ بڑھتی ہے تو پیشہ ورانہ
زندگی (پروفیشنل لائف
/ Work place)کے ساتھ ساتھ ان کی خانگی زندگی بھی متاثر و برباد ہونے لگتی ہے۔
یہ بات درست ہے کہ کامیابی سے کامیابی جنم لیتی ہے۔ ایک آدمی جب ایک
کامیابی سے اپنی جذباتی تحریک حاصل کرتا ہے تو اگلی کامیابی کی طرف زیادہ قوت،
زیادہ توانائی اور زیادہ رفتار کے ساتھ عمل شروع کردیتا ہے۔ ایسا فرد وقتی رکاوٹوں
اور چھوٹی چھوٹی ناکامیوں کو خاطر میں نہیں لاتا۔ ایسے لوگوں کی خود توقیری (سیلف
اسٹیم) بلند تر ہوتی ہے۔ اگر کسی کام میں بہ ظاہر ناکامی ہوتی ہے تو وہ پژمردہ
ہونے کی بہ جائے نئے ولولے کے ساتھ دوبارہ کوشش شروع کردیتے ہیں۔ نتیجتاً، وہ آگے،
اور آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
2۔ ایسے فیصلے کیجیے جن میں غلطیاں کم ہوں: آپ کا فیصلہ کسی بھی معاملے میں، اچھا تھا یا برا، اصل یہ ہے کہ آپ
نے یہ فیصلہ کرتے وقت کیسا محسوس کیا۔ اسی طرح، غلطیاں وہ ہوتی ہیں کہ جن نتائج کے
ردِعمل میں ہم منفی جذبات کو محسوس کرنے لگتے ہیں۔ پھر، یہ منفی احساسات ہمیں
ناخوش کردیتے ہیں۔ جیسے جیسے آپ جذباتی ذہانت کے ذریعے خود کو جانتے اور اپنی
جذباتی کیفیت کا شعور حاصل کرنے کے قابل ہوتے چلے جائیں گے، آپ اپنے جذبات کو پہلے
سے جانچنے کے قابل ہوں گے۔
جیسے جیسے آپ اپنے اہداف پر کام کرتے رہیں گے، ویسے ویسے آپ کے
احساسات آپ کو بتائیں گے کہ...
الف) آپ کا رخ درست سمت میں ہے
ب) آپ کو تھوڑی سی درستی کی ضرورت ہے
ج) آپ کو مکمل طور پر تبدیلی کرنا ہوگی
د) آپ کے گرد موجود لوگ آپ سے تعاون کر رہے ہیں یا آپ کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں
الف) آپ کا رخ درست سمت میں ہے
ب) آپ کو تھوڑی سی درستی کی ضرورت ہے
ج) آپ کو مکمل طور پر تبدیلی کرنا ہوگی
د) آپ کے گرد موجود لوگ آپ سے تعاون کر رہے ہیں یا آپ کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں
اہداف کے حصول کے مکمل سفر میں آپ کا منطقی دماغ اور جذباتی دماغ،
دونوں ہی ایک ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ان دونوں کا آپسی ابلاغ (کمیونیکیشن)
مسلسل جاری رہتا ہے۔ اس ابلاغ پر توجہ کرنے کی پوری کوشش کیجیے اور جب جب نئے
زاویے آپ کو اس دماغی بحث مباحثے سے ملیں، آپ ان پرغور کیجیے اور انھیں استعمال
کرنے کے بارے میں سوچئے۔ اس غرض سے آپ خود سے درج ذیل سوالات کرسکتے ہیں:
1) میں اپنے پیشے / کیریر کے بارے میں کیسا محسوس کرتا ہوں؟
2) جب میں کام پر جارہا ہوں تو کیسا محسوس کرتا ہوں؟
3) جب کام سے اٹھ رہا ہوں تو کیسا محسوس کرتا ہوں؟
4) میں اپنے شریک حیات کے ساتھ کیسامحسوس کرتا ہوں؟
5) میں اپنے شریک حیات کو دیکھنے سے بالکل پہلے کیسا محسوس کرتا ہوں؟
6) میں جب اپنے شریک حیات سے دور ہوتا ہوں تو کیسا محسوس کرتا ہوں۔
3۔متوجہ رہیے: جب آپ کے اپنے بارے میں آگہی (سیلف اویرنیس) میں اضافہ ہوگا تو آپ مخصوص منفی جذبات کو شناخت کرنا بھی سیکھ جائیں گے۔ جب آپ اپنے جذبات و احساسات (جذباتی کیفیت) میں چھپے پیغامات کوسمجھنے کے قابل ہوجائیں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ آپ کے یہ جذبات آپ کو کیا کچھ بتا اور سکھا رہے ہیں۔ جذبات میں پوشیدہ سبق کو جان کر ایک منفی احساس کو مثبت تجربے میں بدلنا آسان ہوجاتا ہے۔
1) میں اپنے پیشے / کیریر کے بارے میں کیسا محسوس کرتا ہوں؟
2) جب میں کام پر جارہا ہوں تو کیسا محسوس کرتا ہوں؟
3) جب کام سے اٹھ رہا ہوں تو کیسا محسوس کرتا ہوں؟
4) میں اپنے شریک حیات کے ساتھ کیسامحسوس کرتا ہوں؟
5) میں اپنے شریک حیات کو دیکھنے سے بالکل پہلے کیسا محسوس کرتا ہوں؟
6) میں جب اپنے شریک حیات سے دور ہوتا ہوں تو کیسا محسوس کرتا ہوں۔
3۔متوجہ رہیے: جب آپ کے اپنے بارے میں آگہی (سیلف اویرنیس) میں اضافہ ہوگا تو آپ مخصوص منفی جذبات کو شناخت کرنا بھی سیکھ جائیں گے۔ جب آپ اپنے جذبات و احساسات (جذباتی کیفیت) میں چھپے پیغامات کوسمجھنے کے قابل ہوجائیں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ آپ کے یہ جذبات آپ کو کیا کچھ بتا اور سکھا رہے ہیں۔ جذبات میں پوشیدہ سبق کو جان کر ایک منفی احساس کو مثبت تجربے میں بدلنا آسان ہوجاتا ہے۔
دراصل، یوں آپ اپنے جذبات سے پہلو تہی برتنے کی بہ جائے، انھیں تسلیم
کرتے، ان کے وجود کو جانچتے اور ان کے پیغامات کو سنتے ہیں۔ یوں، اپنے اہداف اور
پھر اپنی منصوبہ بندی (لائحہ عمل) پر توجہ کرنا بھی آسان تر ہوجاتا ہے۔ اس کے
علاوہ، اگر کسی ہدف کے ساتھ منفی احساس موجود ہے تو ہدف پر نظر ثانی کرنا یا اس سے
مربوط احساس کو بدلنا ممکن اور آسان ہوتا ہے۔

No comments:
Post a Comment