رچرڈ
بینڈلر (بانی این ایل پی) معروف ہپناتھیراپسٹ کی اپنی نئی کتابThe Secret to Being Happy کی
ابتدا میں موجودہ دور کی ابتری کے بارے میں جو کچھ لکھتا ہے، اس کا اُردو ترجمہ
پیش ہے:
’’ہم انسانی تاریخ کے متضاد ترین دَوراہے پر کھڑے ہیں۔ ایک جانب
ٹیکنالوجی نے وہ غیر معمولی ترقی کی ہے کہ چند عشرے پہلے تک جو وہم وگمان میں بھی
نہ تھی، اوردوسری طرف نئے مسائل مثلاً، بے انتہا غربت، ماحولیاتی تبدیلی اور مزمن
امراض (خطرناک بیماریوں) نے خوش حال طبقات کو بھی خوف زدہ کردیا ہے۔
چنانچہ پُر
امن اورخوش حال زندگی کا دیرینہ خواب پایہ تکمیل تک پہنچتا محسوس نہیں ہوتا۔
سائنس، نفسیات، سیاست، ادویہ سازی کی صنعت اور بڑی صنعتوں نے جو بلندبانگ دعوے کیے
تھے، اکثر پورے نہیں ہوئے اور یوں روئے زمین پر انسان کے لیے امن، خوش حالی اور
خوشی حاصل کرنے میں ناکامی ہورہی ہے۔ اب وہ وقت آچکا ہے کہ اکیسویں صدی کے چیلنجز
سے نمٹنے کے لیے ان وسائل سے ہٹ کر کہیں اور دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم جو فیصلے آج
کریں گے، اور جو اقدامات آج کریں گے، مستقبل پر انداز ہوں گے۔ نہ صرف ہمارے لیے
بلکہ آنے والے تمام وقتوں کے لیے ہمارے پاس دونوں ہی مواقع اس وقت موجود ہیں۔ ہم
یا تو نئی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو استعمال کریں یا پھر اسی ڈگر پر چلتے ہوئے مزید
الجھنوں اورمایوسیوں میں دھنستے چلے جائیں۔ ہم اب تک ٹیکنالوجی اورمختلف اشیائے
ضروریہ فراہم کرنے والوں پر انحصارکرتے چلے آئے ہیں۔ لیکن اب پہلے سے کہیں زیادہ
اس کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے خیالات، احساسات، رویوں اور یقینوں کی ذمے داری قبول
کریں۔ اگر ہم اس میں کامیاب ہوگئے تو ہم اپنے ارتقا کی جانب ایک بڑا قدم اٹھاسکیں
گے۔‘‘

No comments:
Post a Comment