زندگی میں خوشی، کامیابی، ترقی اور لطف سب سے زیادہ وہ لوگ حاصل کرتے
ہیں، جن کی زندگی کے مقاصد بہت بڑے ہوتے ہیں۔ یوں تو ہر شخص ہر کام کسی نہ کسی
مقصد کے تحت کرتا ہے، لیکن یہ سب لاشعوری سطح پر ہوتا ہے۔ زندگی کی خوشی اور سرور
ان لوگوں کے حصے میں آتا ہے کہ جو زندگی کے مقاصد اور اہداف (Goals and Targets) کا
تعین پورے شعور کے ساتھ کرتے ہیں۔
یہ ایک اہم سوال ہے کہ
(الف) زندگی کے اہداف کا تعین کرنے میں کیا چیزیں اہم کردار ادا کرتی ہیں؟
(ب) یہ جاننے کے باوجود کہ زندگی کی کامیابی اور خوشی کا بڑی حد تک انحصار فرد کے طے کردہ اہداف پر ہے، کیوں لوگ اپنے لیے اہداف یا مقاصد حیات طے نہیں کرتے؟
(الف) زندگی کے اہداف کا تعین کرنے میں کیا چیزیں اہم کردار ادا کرتی ہیں؟
(ب) یہ جاننے کے باوجود کہ زندگی کی کامیابی اور خوشی کا بڑی حد تک انحصار فرد کے طے کردہ اہداف پر ہے، کیوں لوگ اپنے لیے اہداف یا مقاصد حیات طے نہیں کرتے؟
مقاصد زندگی کے تعین کا اولین قدم: زندگی کے مقاصد کا تعین کرنے کے
لیے پہلا قدم یہ ہے کہ ایسے جذبات و احساسات کا انتخاب کیا جائے جن کی بنا پر آپ
اپنی زندگی کا چارج خود سنبھالنے کے لیے تیار ہوں۔ آپ اپنی زندگی کی صورت تشکیل
دینے کی ذمے داری خود لیں، اور کہہ سکیں، ‘‘یہ مجھ پر ہے’’ اور ‘‘میں ایسا کرسکتا
ہوں۔’’ یہ جملے اگرچہ آپ نے اس سے قبل خود نموئی کی دوسری تحریروں میں پڑھے ہوں
گے، لیکن کیا کبھی آپ نے اس پہلو پر غور کیا کہ جو افراد یہ جملے کہنے کے قابل
ہوتے ہیں اور جو لوگ یہ جملے کہہ نہیں پاتے، ان دونوں طرز کے انسانوں کے درمیان
بنیادی فرق کیا ہوتا ہے؟ ... جذبات!
انسان کی جذباتی کیفیت ہی اسے یا تو بامقصد زندگی پر لاسکتی ہے یا
پھر اسے کسی مقصد و ہدف سے ڈراتی رہتی ہے۔
اپنے جذبات کی ذمے داری قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے جذباتی دماغ (ہارٹ برین) سے آنے والی تحریک پر لبیک کہتے ہوئے اپنے منطقی دماغ (ہیڈ برین) کو اس مستقبل کی منصوبہ بندی پر لگا رہے ہیں کہ جو آپ کا خواب ہے۔
اپنے جذبات کی ذمے داری قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے جذباتی دماغ (ہارٹ برین) سے آنے والی تحریک پر لبیک کہتے ہوئے اپنے منطقی دماغ (ہیڈ برین) کو اس مستقبل کی منصوبہ بندی پر لگا رہے ہیں کہ جو آپ کا خواب ہے۔
جذبات کی سطح پر جب آپ ایک بار اپنی ذمے داری قبول کرلیتے ہیں تو یہ
بھی یقین کرلیتے ہیں کہ آپ اپنے جذبات اور پھر اپنی زندگی کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔
آپ جو چاہتے ہیں، حاصل کرسکتے ہیں۔ لوگ جو تنقید کرتے ہیں، میڈیا جن چیزوں سے
ڈراتا ہے اور حالات جس طرح حوصلہ شکنی کرتے ہیں، ان سب کو بدلنا آپ کے اختیار میں
ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف، جو لوگ اپنے سوا ہر شے (اور ہر فرد) کو اپنے سے بڑا اور
طاقت وَر سمجھتے ہیں، اتنا ہی کمزور، ناتواں اور پژمُردہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ان کا
اپنے آپ پر کنٹرول کم سے کم تر ہوتا چلا جاتا ہے۔
اپنے جذبات و احساسات کی ذمے داری قبول کرنے سے آپ کے اندر کنٹرول
کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
جب آپ زندگی کو بدلنے اور بہتر بنانے کے لیے باہر کی طرف دیکھتے ہیں تو غلط جگہ نظر ڈالتے ہیں۔ زندگی کو بہتر بنانے کی درست جگہ خود آپ کے اندر کی دنیا ہے۔ اور آپ کے اندر کی دنیا کی تصویر آپ کے جذبات سے مصوَر ہوتی ہے۔ اسٹیفن آرکوی نے اپنی کتاب ’’دی سیون ہیبٹس‘‘ میں اس بات کو دو قسم کی فکر (thinking) سے تعبیر کیا ہے:
جب آپ زندگی کو بدلنے اور بہتر بنانے کے لیے باہر کی طرف دیکھتے ہیں تو غلط جگہ نظر ڈالتے ہیں۔ زندگی کو بہتر بنانے کی درست جگہ خود آپ کے اندر کی دنیا ہے۔ اور آپ کے اندر کی دنیا کی تصویر آپ کے جذبات سے مصوَر ہوتی ہے۔ اسٹیفن آرکوی نے اپنی کتاب ’’دی سیون ہیبٹس‘‘ میں اس بات کو دو قسم کی فکر (thinking) سے تعبیر کیا ہے:
باہر سے اندر کی فکر Outside-in Thinking
اندر سے باہر کی فکر Inside-out Thinking
اندر سے باہر کی فکر Inside-out Thinking
کوی جسے ’’باہر سے اندر کی فکر‘‘ یا ’’اندر سے باہر کی فکر‘‘ کہہ رہا
ہے، یہ بھی درحقیقت ایک انسان کے اندر پروان چڑھنے والے جذبات کے تابع ہے۔
ایک مرتبہ جب آپ یہ محسوس کرلیتے ہیں کہ آپ کی زندگی کی حالت کا
انحصار آپ پر ہے تو یہ حقیقت تسلیم کرنے کے بعد اگلا سوال آپ یہ کرتے ہیں، ’’اچھا،
تو پھر کیا کرنا ہوگا؟‘‘ اس سوال کا جواب آپ کے سب سے بڑے ہدف (Goal) یا
خواب (Dream)
یا ویژن
(Vision) سے ملتا ہے۔ آپ کا طے کردہ زندگی کا ہدف، آپ کی زندگی کے سفر کی منزل
ہے۔ اس منزل کا تعین کرنے کے بعد ہی آپ راہِ سفر اور زادِ سفر کا تعین کرنے کے
قابل ہوتے ہیں۔ یہی لائحہ عمل (اسٹریٹجی) ہے۔
اہداف کا تعین: اپنی زندگی کے اہداف یا مقاصد
کا تعین بہت ہی مشکل ذہنی مشق ہے۔ بلکہ کہنے دیجیے، اکثر لوگوں کے لیے یہ ایک
چیلنج ہے۔ لیکن یہ وہ واحد نسخہ ہے جو انسان کی زندگی کو خوش گوار بناسکتا ہے۔
چنانچہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زندگی کا مرکزی ہدف (Main Goal) جتنا
بڑا ہوگا، زندگی بھی اتنی ہی بھرپور، توانا اور خوش گوار ہوگی۔ اس مرکزی ہدف کو
بعض تحریروں میں حتمی ویژن (Ultimate Vision) بھی لکھا گیا ہے۔
ہدف یا اہداف کے تعین کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ اسے واضح اور دو
ٹوک انداز میں
(Specifically) تحریر کیا جائے۔ ظاہر ہے، جب تک کوئی مسئلہ
بھی واضح نہیں ہوگا، اسے حل کرنے کی تدابیر کیسے ڈھونڈی جاسکتی ہیں۔ ہدف کو واضح
اور دو ٹوک بنانے کے لیے آپ خود سے یہ سوالات کرسکتے ہیں:
1۔ میری زندگی کا ہدف (Ultimate Goal) کیا ہے؟
2۔ میری زندگی کا مشن کیا ہے؟
3۔ مجھے کیا چیز خوشی دے گی؟
4۔ جب میں مر رہا ہوں، اس وقت کس شے سے مجھے سکون اور اطمینان حاصل ہوگا۔
1۔ میری زندگی کا ہدف (Ultimate Goal) کیا ہے؟
2۔ میری زندگی کا مشن کیا ہے؟
3۔ مجھے کیا چیز خوشی دے گی؟
4۔ جب میں مر رہا ہوں، اس وقت کس شے سے مجھے سکون اور اطمینان حاصل ہوگا۔
ان سوالات کے کچھ جوابات آپ کو پہلے سے معلوم ہوں گے اور ہوسکتا ہے،
آپ نے پہلے کسی نہ کسی صورت ان کے جوابات لکھے ہوں۔ درج بالا چار سوالوں کے جوابات
کے حصول میں آپ کو ذیل کے سوالات مزید مدد کرسکتے ہیں:
1۔ میں نے اپنے بارے میں اب تک کیا جانا ہے؟
2۔ میرے لیے کیا اہم ہے؟
3۔ میں کس چیز کے بارے میں بہت زیادہ محسوس کرتا ہوں؟
4۔ چند خاص چیزیں میرے لیے کیوں اہم ہیں؟
5۔ کس چیز سے مجھے ماضی میں اچھا محسوس ہوا؟
6۔ کس چیز سے برا محسوس ہوا؟
7۔ میں کس چیز پر یقین رکھتا ہوں؟
8۔ میرے کون سے ’’یقین‘‘ (Beliefs) غیر حقیقی ہیں؟
9۔ میری اقدار (Values) کیا ہیں؟
10۔ میری کون سی اقدار مجھے ناخوش کرتی ہیں؟
11۔ میں کون سے احساسات کم کرنا چاہتا ہوں؟
12۔ میں کون سے احساسات بڑھانا چاہتا ہوں؟
13۔ میں اپنی خوشی میں کیسے رکاوٹ ڈالتا ہوں؟
1۔ میں نے اپنے بارے میں اب تک کیا جانا ہے؟
2۔ میرے لیے کیا اہم ہے؟
3۔ میں کس چیز کے بارے میں بہت زیادہ محسوس کرتا ہوں؟
4۔ چند خاص چیزیں میرے لیے کیوں اہم ہیں؟
5۔ کس چیز سے مجھے ماضی میں اچھا محسوس ہوا؟
6۔ کس چیز سے برا محسوس ہوا؟
7۔ میں کس چیز پر یقین رکھتا ہوں؟
8۔ میرے کون سے ’’یقین‘‘ (Beliefs) غیر حقیقی ہیں؟
9۔ میری اقدار (Values) کیا ہیں؟
10۔ میری کون سی اقدار مجھے ناخوش کرتی ہیں؟
11۔ میں کون سے احساسات کم کرنا چاہتا ہوں؟
12۔ میں کون سے احساسات بڑھانا چاہتا ہوں؟
13۔ میں اپنی خوشی میں کیسے رکاوٹ ڈالتا ہوں؟
ان سوالات کے جوابات سے آپ کو اپنے جذبات اور احساسات کو سمجھنے اور
انھیں کنٹرول کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ پھر، آپ اپنی زندگی کے اہداف بھی زیادہ
آسانی اور ترنگ کے ساتھ متعین کرسکیں گے۔ اس مشق سے آپ کو اپنے احساسات کی آواز
سننے اور ان میں چھپے پیغامات کو سمجھنے کا بھی موقع ملے گا۔ آپ اپنے آپ سے زیادہ
آگاہ ہوں گے (Self
Awareness)۔ اپنے
آپ سے گفت گو
(Self-Talk) سمجھ پائیں گے۔ اس کے نتیجے میں:
* آپ ایسے اہداف طے کرسکیں گے جو آپ کو انگیخت دیں، یعنی Motivate کریں۔
* بہتر فیصلے کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔
* زندگی کے ہر مشکل اور پیچیدہ مرحلے پر تحمل اور برداشت آسانی سے پیدا کرسکیں گے۔
* جن کاموں پر توجہ (فوکس) کی ضرورت ہے، ان پر بہتر فوکس کرسکیں گے۔
* بہتر فیصلے کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔
* زندگی کے ہر مشکل اور پیچیدہ مرحلے پر تحمل اور برداشت آسانی سے پیدا کرسکیں گے۔
* جن کاموں پر توجہ (فوکس) کی ضرورت ہے، ان پر بہتر فوکس کرسکیں گے۔
یہ سب کیسے ہوگا، آئیے، اس پر اگلے بلاگ میں بات کرلیں۔

No comments:
Post a Comment