Tuesday, 31 July 2012
Friday, 27 July 2012
Tuesday, 24 July 2012
ذمے داری
جذباتی ذہانت میں اضافے کے لیے یہ انتہائی لازمی ہے کہ آپ اپنے
احساسات (منفی ہو یا مثبت) کی ذمے داری خود قبول کریں۔ ذمے داری کا معاملہ جذبات و
احساسات کی نوعیت پر منحصر نہیں کہ میں فلاں کی وجہ سے خوش ہوں یا فلاں نے مجھے
طیش میں ڈال دیا۔ درحقیقت، اپنی جذباتی کیفیت کی ذمے داری قبول کرنا اپنے جذبات کو
کنٹرول کرنے کی جانب پہلا اور سب سے موثر قدم ہے۔
Monday, 23 July 2012
Sunday, 22 July 2012
Saturday, 21 July 2012
جذباتی تعلق اور بے تعلقی
اگر ہم اپنے احساسات سے مربوط نہیں ہوں گے تو ہمیں یہ معلوم نہیں
ہوگا کہ اپنی علت (سبب) کو کس سے متوازن کریں۔ اگر ہم اپنے فیصلے اور رشتے ناتے
محض اپنی عقل یا منطق (لاجک) کی بنیاد پر قائم کریں گے تو ہم اپنی زندگی کی خوشی
اور لطف کھو دیں گے، کیوں کہ کسی بھی منطقی اقدام کا تعلق اس اقدام کے نتیجے میں
حاصل ہونے والے سرور
(Pleasure) سے نہیں ہوتا۔
چنانچہ جو لوگ اپنے جذبات سے بے ربط ہوجاتے ہیں، وہ
اپنی زندگی میں جذباتی کیف سے محروم رہتے ہیں۔ اور جب وہ اپنے احساسات کا شعور
نہیں رکھتے تو کسی دوسرے کے احساس کا شعور کیا رکھیں گے۔ یوں کہہ لیجیے، یہی لوگ ‘‘بے
حس’’ ہوتے ہیں۔
اسی طرح، اگر ہم اپنے احساسات سے تعلق نہیں رکھیں گے تو ہم اپنے ضمیر
کی نہیں سن سکیں گے اور کسی دوسرے کو ٹھیس پہنچانے پر ہمیں کوئی احساس نہیں ہوگا۔
صرف یہی نہیں، اس برتاؤ کے نتیجے میں سامنے والے فرد سے جو ردعمل آتا ہے، وہ خود
ہمارے لیے نقصان کا باعث ہوتا ہے۔
Friday, 20 July 2012
Thursday, 19 July 2012
Wednesday, 18 July 2012
اپنا جائزہ
اپنا جائزہ لینے کی صلاحیت اپنے اندر چھپی بہت سی صلاحیتوں کو جاننے
کے قابل بناتی ہے۔ عام طور پر آدمی جذباتی گراؤ میں اپنی خامیاں ہی دیکھتا ہے۔
جبکہ اس انداز سے اپنا جائزے لینے پر جذباتی ذہانت کی یہ خوبی انسان کو اپنی زندگی
بہتر سے بہتر بنانے کی خواہش بھی پیدا کرتی ہے اور اس بہتر زندگی کے قابلِ حصول
ہونے کا یقین بھی۔
Tuesday, 17 July 2012
Monday, 16 July 2012
قطعیت یا ایسرٹیونیس
قطعیت یا ایسرٹیونیس(Assertiveness) یا قطعیت کی اس صلاحیت کے ساتھ
آدمی اپنی سوچ اور رائے کی بنا پر آنے والے اپنے جذبات کا اظہار غیر تخریبی اور
متوازن طریقے سے کرتا ہے۔ لغوی اعتبار سے ایسرٹیونیس کا ترجمہ قطعی اور حتمی کا
نکلتا ہے، لیکن ابلاغ کے ضمن میں جب یہ اصطلاح آتی ہے تو اس سے مراد ایک انسان کے
اندر اپنی بات کہنے کی وہ مثالی صلاحیت ہے کہ جس کے ذریعے وہ اپنی بات یا رائے کو
موثر، مدلل اور متوازن انداز میں پیش کرسکے کہ دوسرے لوگ اس سے اختلافِ رائے رکھنے
کے باوجود اس کی بات کو سنیں اور غور کریں۔
Sunday, 15 July 2012
Saturday, 14 July 2012
کامیابی کی غلط شرائط
لوگوں نے زندگی میں ترقی، کامیابی اور خوشی کی جو شرائط اپنے تئیں طے
کرلی ہیں وہ جذباتی ذہانت کے ان اجزا سے بالکل مختلف ہیں۔ماہرین اس حوالے سے جو
کچھ کہتے ہیں، وہ آگے پیش ہے۔ ہر انسان کو اپنی زندگی میں اپنے مسائل کو حل کرنے
اور زندگی میں کامیابی، ترقی اور خوشی اور مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کے لیے اپنے
اندر ان بنیادی اجزا کا پیدا کرنا اور انھیں اپنے روزمرہ معاملا ت میں استعمال
کرنا اشد ضروری ہے۔ واضح رہے، یہ اجزا انتخاب نہیں، لازمی امر ہیں۔
Friday, 13 July 2012
Thursday, 12 July 2012
Wednesday, 11 July 2012
جذباتی ذہانت اور جذبات کا شعور
جذباتی ذہانت بڑھانے اور اپنی جذباتی کیفیت کو کنٹرول کرنے کے لیے سب
سے پہلے یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے اور دوسروں کے جذبات سے آگاہ اور واقف ہوں۔ جذباتی
ذہانت کے شعبے میں اسے ‘‘جذباتی خواندگی’’ (Emotional Literacy) کا نام دیا جاتا ہے۔ جذباتی شعور یا جذباتی خواندگی اپنے اندر پیدا
کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم ٹھیک ٹھیک اپنے احساسات کی شناخت کرسکیں اور اپنے
احساسات کا ابلاغ کرسکیں۔
Tuesday, 10 July 2012
اپنے جذبات کو پہچانئے
جذبات سے واقفیت کی صلاحیت غالباً جذباتی ذہانت میں سب سے اہم ہے۔ اپنے
جذبات و احساسات سے واقفیت کے بغیر خوش گوار زندگی ممکن نہیں ہے۔ جذباتی شعور یا
جذباتی واقفیت میں یہ بھی شامل ہے کہ موجود احساس کے سبب سے بھی واقفیت ہو۔ جذبات
و احساسات کے شعور اور اپنے احساسات سے مکمل طور پر آگہی کے لیے ان پر توجہ کرنا،
انھیں تسلیم کرنا اور انھیں شناخت کرنا بہت ضروری ہے۔
Monday, 9 July 2012
Sunday, 8 July 2012
تعلیمی و سماجی ڈھانچا، جذبات کی اہمیت سے عاری ہے
اپنے جذبات کو نہ جاننے یا جذباتی عدم واقفیت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے
کہ ہمارے معاشرے میں اسکول کی تعلیم، علمی بحث مباحثے اور شماریات (Facts & Figures) کی معلومات ہی کو ذہانت اور کامیابی کا معیار سمجھ لیا گیا ہے۔
جذباتی عدم استحکام کا شکار تو اکثریت ہے، لیکن میرے پاس جو لوگ آتے ہیں، حیرت
انگیز بات یہ ہے کہ جذباتی عدم آگہی یا جذباتی ناخواندگی (Emotional Illiteracy) کا تناسب اعلا تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے مرد و خواتین میں زیادہ
ہوتا ہے۔
Saturday, 7 July 2012
جذباتی سپاٹ پن
گیری ایک اعلا تعلیم یافتہ، بہت ہی عقل مند اور سوچ بچار کرنے والا
فرد اور کامیاب سرجن تھا، لیکن جذباتی سطح پر بالکل ہی سپاٹ۔ گویا اس کے اندر
جذبات و احساسات کا کوئی اتار چڑھاؤ ہوتا ہی نہیں ہے۔ وہ کسی بھی صورتِ حال میں
کوئی بھی جذباتی ردِعمل (Response) ظاہر نہیں کرتا تھا۔ وہ سائنس
اور آرٹس دونوں ہی موضوعات پر زبردست طور پر بول سکتا تھا، لیکن جب معاملہ جذبات
کا آتا تو وہ خاموش ہوجاتا۔
Friday, 6 July 2012
بُلند اور پست ای کیو کے اثرات
جن لوگوں میں ای کیو یا جذباتی ذہانت کی سطح پست ہوتی ہے، ایسے لوگ
درج ذیل منفی اور بیمار احساسات و جذبات کے حامل ہوتے ہیں:
* تنہائی *
غیر مستقل مزاجی * ناکامی * خوف *مایوسی * الجھن * رکاوٹیں *ندامت *حوصلہ شکنی * خالی پن *غصہ *تلخی *اضمحلال *تشویش * دوسروں پر انحصار *خود کو حالات کا شکار
سمجھنا۔
جبکہ بلند ای کیو لیول والے لوگ عموماً درج ذیل احساسات رکھتے ہیں:
* انگیخت(موٹیویشن) *خود پر کنٹرول *دوستی *آزادی * زیادہ توجہ * مستقل مزاجی * * گرم جوشی
*تعریف و تحسین * * ذہنی سکون * ربط * آگاہی *آگے بڑھنے کی خواہش * توازن *جرات *امید
*تعریف و تحسین * * ذہنی سکون * ربط * آگاہی *آگے بڑھنے کی خواہش * توازن *جرات *امید
Thursday, 5 July 2012
جذبات کیا ہیں؟
کوئی جذبہ یا احساس کسی واقعے کے بارے میں ہم سے گفت گو کی ایک شکل
ہوتا ہے۔ ہم ہر لمحے کسی نہ کسی جذبے کے تجربے سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ مرد عورت،
مسلم غیر مسلم، بچے، جوان بوڑھے، پڑھے لکھے او ر ان پڑھ... سبھی انسان ہر وقت کسی
نہ کسی جذبے کو محسوس کرتے ہیں۔ یہ جذبات یا احساسات دو قسم کے ہوتے ہیں: منفی یا
مثبت؛ تخریبی یا تعمیری۔ ہم کسی بھی جذبے سے گزر رہے ہوں، ہماری وہ حالت ہماری ‘‘جذباتی
کیفیت’’ (Emotional
State) کہلاتی ہے۔
Wednesday, 4 July 2012
Tuesday, 3 July 2012
تین قسم کے جذباتی ردِعمل
پیدائش کے بعد ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے اوراس کے اندر فطری طور
پر تین قسم کے جذباتی ردعمل پائے جاتے ہیں۔ یہ جذبات کے اظہار کا SEE Model کہلاتا
ہے۔ جذباتی اظہار کا ‘‘سی ماڈل’’ یہ بتاتا ہے کہ ایک فرد کے اندر فطری
طور پر تین طرح سے اپنے جذبات کے اظہار کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔
Monday, 2 July 2012
سیلف سائنس اور ای کیو
اب تک کی گفت گو کے دوران
میں آپ کی نظر سے دو نئے الفاظ گزرے ہوں گے: ای کیو اور سیلف سائنس۔ ہم ان دونوں
کی وضاحت کرتے چلیں تاکہ موضوع کو سمجھنے اور دی گئی مشقیں کرنے میں آسانی ہو۔
انسان جذبات سے مرکب ہے: ہر انسان بنیادی طور پر
جذبات کا ساختہ ہے۔ میں اور آپ، ہر وقت دن اور رات میں کہیں بھی ہوں، کسی بھی حالت
میں ہوں۔ کسی نہ کسی جذبے (Emotion) یا احساس (Feeling)
کا تجربہ ضرور کر رہے ہوتے ہیں۔ تاہم اکثر یہ جذبہ یا احساس منفی ہوتا ہے۔ یا پھر
زیادہ سے زیادہ ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس منفی احساس کو محسوس نہ کریں۔ مثبت
اور بھرپور احساس کا تو شائبہ بھی نہیں گزرتا۔
Sunday, 1 July 2012
خودکشی اور مایوسی بڑھ رہی ہے
بارہ سالہ نوجوان نے جو ایک انگلش میڈیم
سسٹم کے ہوسٹل میں رہتا تھا، ایک خط اپنے والدین کے نام لکھا اور خودکشی کرلی۔
میڈیا کے ذریعے جس کسی نے اس واقعے کو جانا، روح کانپ کر رہ گئی۔ خودکشی کا یہ
واقعہ پہلا نہیں ہے، ایسے سیکڑوں واقعات چند برس میں رونما ہوچکے ہیں۔ ایک جانب
لوگ خودکشی کے ذریعے خود کوقتل کر رہے ہیں تو دوسری جانب کوئی اپنی اولاد کو ذبح
کر رہا ہے تو کوئی اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو ہلاک کر رہا ہے۔ بعض حد میں
رہتے ہیں تو نشہ آور دواؤں کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق،
گزشتہ صرف ایک سال میں پاکستان میں خود کشی کا تناسب دوگنا ہوچکا ہے؛
Subscribe to:
Comments (Atom)























