Friday, 27 July 2012

جذباتی ذہانت بڑھانے کی چھے مشقیں

ذیل کے چھے مشقیں کیجیے، آپ اپنی جذباتی ذہانت کو بڑھا کر انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر بہتری ای کیو لیول کا اظہار کرسکیں گے۔

Tuesday, 24 July 2012

ذمے داری

جذباتی ذہانت میں اضافے کے لیے یہ انتہائی لازمی ہے کہ آپ اپنے احساسات (منفی ہو یا مثبت) کی ذمے داری خود قبول کریں۔ ذمے داری کا معاملہ جذبات و احساسات کی نوعیت پر منحصر نہیں کہ میں فلاں کی وجہ سے خوش ہوں یا فلاں نے مجھے طیش میں ڈال دیا۔ درحقیقت، اپنی جذباتی کیفیت کی ذمے داری قبول کرنا اپنے جذبات کو کنٹرول کرنے کی جانب پہلا اور سب سے موثر قدم ہے۔

Monday, 23 July 2012

لچک



لچک (Flexibility) کی صلاحیت نہ صرف جذباتی ذہانت بلکہ ہر معاملے میں ایک انتہائی لازمی صلاحیت ہے۔ جذباتی ذہانت کے تناظر میں لچک یہ ہے کہ آدمی اپنے جذبات میں خود اتار چڑھاؤ لاسکے۔ آدمی اپنے خیالات، ان سے پیدا ہونے والے احساسات اور ان کے نتیجے میں تشکیل پانے والے برتاؤ کو تبدیل کرنے پر قادر ہو۔

Sunday, 22 July 2012

ہم گدازی


ہم گدازی (Sympathy) کا مطلب ہے، دوسرے کے احساسات کی شناخت۔ یا جذباتی طور پر خود کو دوسرے کی جگہ پر رکھنا ہے۔ ہم گدازی کا بہ راہِ راست تعلق اپنے احساسات کو محسوس کرنے اور انھیں شناخت کرنے سے ہے۔

Saturday, 21 July 2012

جذباتی تعلق اور بے تعلقی


اگر ہم اپنے احساسات سے مربوط نہیں ہوں گے تو ہمیں یہ معلوم نہیں ہوگا کہ اپنی علت (سبب) کو کس سے متوازن کریں۔ اگر ہم اپنے فیصلے اور رشتے ناتے محض اپنی عقل یا منطق (لاجک) کی بنیاد پر قائم کریں گے تو ہم اپنی زندگی کی خوشی اور لطف کھو دیں گے، کیوں کہ کسی بھی منطقی اقدام کا تعلق اس اقدام کے نتیجے میں حاصل ہونے والے سرور (Pleasure) سے نہیں ہوتا۔
چنانچہ جو لوگ اپنے جذبات سے بے ربط ہوجاتے ہیں، وہ اپنی زندگی میں جذباتی کیف سے محروم رہتے ہیں۔ اور جب وہ اپنے احساسات کا شعور نہیں رکھتے تو کسی دوسرے کے احساس کا شعور کیا رکھیں گے۔ یوں کہہ لیجیے، یہی لوگ ‘‘بے حس’’ ہوتے ہیں۔
اسی طرح، اگر ہم اپنے احساسات سے تعلق نہیں رکھیں گے تو ہم اپنے ضمیر کی نہیں سن سکیں گے اور کسی دوسرے کو ٹھیس پہنچانے پر ہمیں کوئی احساس نہیں ہوگا۔ صرف یہی نہیں، اس برتاؤ کے نتیجے میں سامنے والے فرد سے جو ردعمل آتا ہے، وہ خود ہمارے لیے نقصان کا باعث ہوتا ہے۔

Friday, 20 July 2012

توازن


جذباتی ذہانت کے ضمن میں توازن کی انتہائی اہمیت ہے۔ ارسطو جیسے قدیم ترین فلسفی سے لے کر آج تک ہر معاشرے اور مکتب فکر میں بے شمار مفکرین نے توازن کی بات کی ہے اور اس کی اہمیت کو گردانا ہے۔

Thursday, 19 July 2012

خود پر قابو



خود پر قابو یا سیلف کنٹرول خود پر کنٹرول کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی سوچ اور افعال پر کنٹرول کرنے کے قابل ہو، نیز جذباتی اظہار میں آزاد ہو۔ جذباتی اظہار میں آزادی کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی فرد، حالت یا واقعے کے نتیجے میں مثبت یا منفی جذبے کا اظہار کرنے والا نہ ہو بلکہ اپنے جذبات کے اظہار میں آزاد ہو۔

Wednesday, 18 July 2012

اپنا جائزہ


اپنا جائزہ لینے کی صلاحیت اپنے اندر چھپی بہت سی صلاحیتوں کو جاننے کے قابل بناتی ہے۔ عام طور پر آدمی جذباتی گراؤ میں اپنی خامیاں ہی دیکھتا ہے۔ جبکہ اس انداز سے اپنا جائزے لینے پر جذباتی ذہانت کی یہ خوبی انسان کو اپنی زندگی بہتر سے بہتر بنانے کی خواہش بھی پیدا کرتی ہے اور اس بہتر زندگی کے قابلِ حصول ہونے کا یقین بھی۔

Tuesday, 17 July 2012

خود تسلیمی

خود تسلیمی کی صلاحیت خود کو بنیادی طور پر اچھا دوست سمجھنے اور اسے تسلیم کرنے کی صلاحیت ہے۔ خود کو تسلیم کرنا (Self Regard) اپنی حیثیت اور شخصیت کو جیسے ہے، جہاں ہے کی بنیاد پر قبول کرنے کا پہلا قدم ہے۔ اس میں مثبت اور منفی دونوں شامل ہیں۔

Monday, 16 July 2012

قطعیت یا ایسرٹیونیس

قطعیت یا ایسرٹیونیس(Assertiveness) یا قطعیت کی اس صلاحیت کے ساتھ آدمی اپنی سوچ اور رائے کی بنا پر آنے والے اپنے جذبات کا اظہار غیر تخریبی اور متوازن طریقے سے کرتا ہے۔ لغوی اعتبار سے ایسرٹیونیس کا ترجمہ قطعی اور حتمی کا نکلتا ہے، لیکن ابلاغ کے ضمن میں جب یہ اصطلاح آتی ہے تو اس سے مراد ایک انسان کے اندر اپنی بات کہنے کی وہ مثالی صلاحیت ہے کہ جس کے ذریعے وہ اپنی بات یا رائے کو موثر، مدلل اور متوازن انداز میں پیش کرسکے کہ دوسرے لوگ اس سے اختلافِ رائے رکھنے کے باوجود اس کی بات کو سنیں اور غور کریں۔

Sunday, 15 July 2012

جذباتی ذہانت کے اجزا


 جذباتی ذہانت یا ای کیو کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: - اول: انفرادی (Intrapersonal)؛ دوم: اجتماعی یا بین الافرادی (Inter Personal)۔ پہلے حصے کا تعلق فرد کا اپنے آپ سے، اپنی ذات اور شخصیت سے ہے، جبکہ دوسرے حصے کا تعلق اس کے گرد موجود افراد یعنی معاشرے سے ہے۔

Saturday, 14 July 2012

کامیابی کی غلط شرائط


لوگوں نے زندگی میں ترقی، کامیابی اور خوشی کی جو شرائط اپنے تئیں طے کرلی ہیں وہ جذباتی ذہانت کے ان اجزا سے بالکل مختلف ہیں۔ماہرین اس حوالے سے جو کچھ کہتے ہیں، وہ آگے پیش ہے۔ ہر انسان کو اپنی زندگی میں اپنے مسائل کو حل کرنے اور زندگی میں کامیابی، ترقی اور خوشی اور مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کے لیے اپنے اندر ان بنیادی اجزا کا پیدا کرنا اور انھیں اپنے روزمرہ معاملا ت میں استعمال کرنا اشد ضروری ہے۔ واضح رہے، یہ اجزا انتخاب نہیں، لازمی امر ہیں۔ 

Friday, 13 July 2012

ایک سچی کرب ناک داستان

اوصاف صاحب جب میرے پاس اپنے مسائل کے سلسلے میں لائف کوچنگ کے لیے آئے تو بہ ظاہر ان کے مسائل عام سے تھے، اور میرے لیے نئے بھی نہیں۔ لیکن جذباتی ناہم واری کی بہت بڑی مثال۔ وہ کچھ اس قسم کے مسائل کا شکار تھے:

Thursday, 12 July 2012

جذباتی ذہانت، ایک موثر مشق


بہت بڑا المیہ ہے کہ ہمیں سوچنا اور یاد کرنا تو سکھایا جاتا ہے، محسوس کرنا سکھایا نہیں جاتا۔ چنانچہ جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں تو جو محسوس کررہے ہیں، وہ بتانے کی بہ جائے ہم اپنے جذباتی کیفیت کی تشبیہ کسی شے سے دینا شروع کردیتے ہیں۔ 

Wednesday, 11 July 2012

جذباتی ذہانت اور جذبات کا شعور


جذباتی ذہانت بڑھانے اور اپنی جذباتی کیفیت کو کنٹرول کرنے کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے اور دوسروں کے جذبات سے آگاہ اور واقف ہوں۔ جذباتی ذہانت کے شعبے میں اسے ‘‘جذباتی خواندگی’’ (Emotional Literacy) کا نام دیا جاتا ہے۔ جذباتی شعور یا جذباتی خواندگی اپنے اندر پیدا کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم ٹھیک ٹھیک اپنے احساسات کی شناخت کرسکیں اور اپنے احساسات کا ابلاغ کرسکیں۔

Tuesday, 10 July 2012

اپنے جذبات کو پہچانئے


 جذبات سے واقفیت کی صلاحیت غالباً جذباتی ذہانت میں سب سے اہم ہے۔ اپنے جذبات و احساسات سے واقفیت کے بغیر خوش گوار زندگی ممکن نہیں ہے۔ جذباتی شعور یا جذباتی واقفیت میں یہ بھی شامل ہے کہ موجود احساس کے سبب سے بھی واقفیت ہو۔ جذبات و احساسات کے شعور اور اپنے احساسات سے مکمل طور پر آگہی کے لیے ان پر توجہ کرنا، انھیں تسلیم کرنا اور انھیں شناخت کرنا بہت ضروری ہے۔

Monday, 9 July 2012

’’میں’’ یا ‘‘تو’’


 آپ نے اکثر اپنی اور دوسروں کی گفت گو میں سنا ہوگا، ’’میں آپ کو اپنی بات سمجھا نہیں پایا۔‘‘ یا پھر، ’’آپ میری بات سمجھ نہیں رہے۔‘‘

Sunday, 8 July 2012

تعلیمی و سماجی ڈھانچا، جذبات کی اہمیت سے عاری ہے


اپنے جذبات کو نہ جاننے یا جذباتی عدم واقفیت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اسکول کی تعلیم، علمی بحث مباحثے اور شماریات (Facts & Figures) کی معلومات ہی کو ذہانت اور کامیابی کا معیار سمجھ لیا گیا ہے۔ جذباتی عدم استحکام کا شکار تو اکثریت ہے، لیکن میرے پاس جو لوگ آتے ہیں، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جذباتی عدم آگہی یا جذباتی ناخواندگی (Emotional Illiteracy) کا تناسب اعلا تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے مرد و خواتین میں زیادہ ہوتا ہے۔

Saturday, 7 July 2012

جذباتی سپاٹ پن


گیری ایک اعلا تعلیم یافتہ، بہت ہی عقل مند اور سوچ بچار کرنے والا فرد اور کامیاب سرجن تھا، لیکن جذباتی سطح پر بالکل ہی سپاٹ۔ گویا اس کے اندر جذبات و احساسات کا کوئی اتار چڑھاؤ ہوتا ہی نہیں ہے۔ وہ کسی بھی صورتِ حال میں کوئی بھی جذباتی ردِعمل (Response) ظاہر نہیں کرتا تھا۔ وہ سائنس اور آرٹس دونوں ہی موضوعات پر زبردست طور پر بول سکتا تھا، لیکن جب معاملہ جذبات کا آتا تو وہ خاموش ہوجاتا۔

Friday, 6 July 2012

بُلند اور پست ای کیو کے اثرات


جن لوگوں میں ای کیو یا جذباتی ذہانت کی سطح پست ہوتی ہے، ایسے لوگ درج ذیل منفی اور بیمار احساسات و جذبات کے حامل ہوتے ہیں:
* تنہائی * غیر مستقل مزاجی * ناکامی   * خوف *مایوسی * الجھن * رکاوٹیں *ندامت *حوصلہ شکنی * خالی پن *غصہ *تلخی *اضمحلال *تشویش * دوسروں پر انحصار *خود کو حالات کا شکار سمجھنا۔
جبکہ بلند ای کیو لیول والے لوگ عموماً درج ذیل احساسات رکھتے ہیں:
* انگیخت(موٹیویشن) *خود پر کنٹرول  *دوستی *آزادی * زیادہ توجہ * مستقل مزاجی * * گرم جوشی
*
تعریف و تحسین * * ذہنی سکون * ربط * آگاہی *آگے بڑھنے کی خواہش * توازن *جرات *امید

Thursday, 5 July 2012

جذبات کیا ہیں؟

 کوئی جذبہ یا احساس کسی واقعے کے بارے میں ہم سے گفت گو کی ایک شکل ہوتا ہے۔ ہم ہر لمحے کسی نہ کسی جذبے کے تجربے سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ مرد عورت، مسلم غیر مسلم، بچے، جوان بوڑھے، پڑھے لکھے او ر ان پڑھ... سبھی انسان ہر وقت کسی نہ کسی جذبے کو محسوس کرتے ہیں۔ یہ جذبات یا احساسات دو قسم کے ہوتے ہیں: منفی یا مثبت؛ تخریبی یا تعمیری۔ ہم کسی بھی جذبے سے گزر رہے ہوں، ہماری وہ حالت ہماری ‘‘جذباتی کیفیت’’ (Emotional State) کہلاتی ہے۔

Wednesday, 4 July 2012

آئی کیو اور ای کیو


یہ سوال انسانی ذہن کو ہمیشہ سے بے چین کیے رکھتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے جو انسان کو آگے بڑھاتی اور اسے مسائل حل کرنے کے قابل بناتی ہے؟ دوسری جنگ عظیم سے پہلے تک اس سوال کا جواب بڑی حد تک ‘‘آئی کیو’’ (IQ یا  Intelligence Quotient) کی صورت میں دیا جاتا تھا۔

Tuesday, 3 July 2012

تین قسم کے جذباتی ردِعمل


پیدائش کے بعد ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے اوراس کے اندر فطری طور پر تین قسم کے جذباتی ردعمل پائے جاتے ہیں۔ یہ جذبات کے اظہار کا SEE Model کہلاتا ہے۔ جذباتی اظہار کا ‘‘سی ماڈل’’ یہ بتاتا ہے کہ ایک فرد کے اندر فطری طور پر تین طرح سے اپنے جذبات کے اظہار کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔

مشن اسٹیٹمنٹ

انسانی زندگی میں مشن اسٹیٹمنٹ کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔ اور جب بات آتی ہے، ناخوشی سے نجات اور پرسکون و خوش حال زندگی کی، تو یہ اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

Monday, 2 July 2012

سیلف سائنس اور ای کیو


اب تک کی گفت گو کے دوران میں آپ کی نظر سے دو نئے الفاظ گزرے ہوں گے: ای کیو اور سیلف سائنس۔ ہم ان دونوں کی وضاحت کرتے چلیں تاکہ موضوع کو سمجھنے اور دی گئی مشقیں کرنے میں آسانی ہو۔
انسان جذبات سے مرکب ہے: ہر انسان بنیادی طور پر جذبات کا ساختہ ہے۔ میں اور آپ، ہر وقت دن اور رات میں کہیں بھی ہوں، کسی بھی حالت میں ہوں۔ کسی نہ کسی جذبے (Emotion) یا احساس (Feeling) کا تجربہ ضرور کر رہے ہوتے ہیں۔ تاہم اکثر یہ جذبہ یا احساس منفی ہوتا ہے۔ یا پھر زیادہ سے زیادہ ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس منفی احساس کو محسوس نہ کریں۔ مثبت اور بھرپور احساس کا تو شائبہ بھی نہیں گزرتا۔

Sunday, 1 July 2012

خودکشی اور مایوسی بڑھ رہی ہے


بارہ سالہ نوجوان نے جو ایک انگلش میڈیم سسٹم کے ہوسٹل میں رہتا تھا، ایک خط اپنے والدین کے نام لکھا اور خودکشی کرلی۔ میڈیا کے ذریعے جس کسی نے اس واقعے کو جانا، روح کانپ کر رہ گئی۔ خودکشی کا یہ واقعہ پہلا نہیں ہے، ایسے سیکڑوں واقعات چند برس میں رونما ہوچکے ہیں۔ ایک جانب لوگ خودکشی کے ذریعے خود کوقتل کر رہے ہیں تو دوسری جانب کوئی اپنی اولاد کو ذبح کر رہا ہے تو کوئی اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو ہلاک کر رہا ہے۔ بعض حد میں رہتے ہیں تو نشہ آور دواؤں کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، گزشتہ صرف ایک سال میں پاکستان میں خود کشی کا تناسب دوگنا ہوچکا ہے؛